1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی اقتصادی فورم: شرکاء عالمی معاشی ترقی کے لیے پُرامید

سوئٹزر لینڈ میں عالمی اقتصادی فورم آج بدھ کے دن سے شروع ہو گیا ہے۔ عالمی اقتصادیات کے موضوع پر ہونے والے اس بین الاقوامی اجتماع میں دنیا بھر سے ڈھائی ہزار سرکردہ کاروباری شخصیات، سیاستدان اور سماجی رہنما حصہ لے رہے ہیں۔

default

سوئٹزر لینڈ میں داووس کے مقام پر ہونے والے اس فورم میں چین کی ترقی کرتی ہوئی معیشت کی راہ میں حائل رکاوٹیں، یورپی ملکوں کے ذمے قرضوں کے حوالے سے پائی جانے والی بے چینی، معاشی بحران سے پیدا شدہ مسائل اور مختلف شعبوں میں مالی کٹوتیاں اہم ترین موضوع رہیں گے۔

فورم کے پہلے روز عالمی رہنماؤں نے معاشی ترقی کے لیے ابھرتی ہوئی نئی تجارتی منڈیوں سے خاصی امیدیں وابستہ کیں۔ تاہم عالمی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی خطرات ان نئی تجارتی منڈیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس فورم میں عالمی رہنماؤں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور شمالی اور جنوبی کوریا کے علاوہ ایران، اسرائیل اور مصر میں پایا جانے والا جغرافیائی سیاسی تناؤ بھی بے چینی کو جنم دےسکتے ہیں۔

Weltwirtschaftsforum Davos / Schweiz

یہ کانفرنس پانچ روز تک جاری رہے گی

اس موقع پر منتظمین کی افتتاحی پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نیسلے نامی ملٹی نیشنل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو Paul Bulcke کا کہنا تھا، ’’میں بہت پر امید ہوں کیونکہ دنیا بڑھتی جا رہی ہے۔ اب ہم اپنے سامنے ایک خود اعتماد دنیا کو ترقی پاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، جو اپنا رستہ خود بنا رہی ہے۔‘‘

تاہم تقریب میں موجود چند شرکاء نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے ابھی تک بحالی کے دور سے گزرتی ہوئی کمزور عالمی معیشت کو درپیش خطرات کی جانب بھی اشارہ کیا۔

اس پانچ روزہ عالمی اجتماع میں فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور روسی صدر دیمتری میدویدیف سمیت فورم کی ایک ہزارکمپنیوں کے اعلیٰ نمائندے، جی ٹوئنٹی ممالک کے سیاستدان،گلوبل ایجنڈا کونسلز کے 72 چیئر پرسن اور سول سوسائٹی کے نمائندہ مختلف افراد بھی شرکت کر رہے ہیں۔ افتتاحی اجلاس میں روسی صدر کو بھی شرکاء سے خطاب کرنا تھا لیکن ماسکو ایئر پورٹ پر دھماکے کی وجہ سے ان کا خطاب ملتوی کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM