1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی اقتصادی فورم، اصلاحات پر خصوصی توجہ

سوئٹزرلینڈ میں سالانہ عالمی اقتصادی فورم جاری ہے۔ اس مرتبہ اس میں مالیاتی نظام میں اصلاحات متعارف کرانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

default

بدھ کو افتتاحی خطاب میں فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے مالیاتی اداروں پر مضبوط گرفت رکھنے سے متعلق امریکی صدر باراک اوبامہ کے فیصلے کی حمایت کی۔ سارکوزی نے کہا کہ حد سے زیادہ منافع پر ٹیکس کے نفاذ سے غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔’’غیر ضروری اضافی منافع حاصل کئے جارہے ہیں، جو اب برداشت نہیں کئے جائیں گے کیونکہ ان سے اجتماعی فوائد، جیسے ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔‘‘

Sarkozy Rede in Davos beim Weltwirtschaftsgipfel

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی ڈاوس میں خطاب کرتے ہوئے

چین کا نام لئے بغیر نکولا سارکوزی نے تنقیدی انداز میں کہا کہ مالیاتی و معاشی نظام کو اس وقت تک مکمل طور پر دوبارہ بہتری کی جانب گامزن نہیں کیا جاسکتا جب تک کرنسی کی قدر میں وسیع فرق موجود رہے گا۔ سارکوزی نے تسلیم کیا کہ جب یہ طے کرلیا گیا کہ تمام فیصلے اقتصادی منڈی کے مزاج کے مطابق کئے جائیں گے، تب ہی سے عالمگیریت قابو سے باہر ہوئی۔

دوسری جانب بڑے بڑے بینکوں کے اہم عہدے داروں نے نئی پابندیوں اور ٹیکسوں کے اطلاق کو ڈاوٴس میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ برطانوی بینک بارکلے کے صدر رابرٹ ڈائمنڈ نے کہا کہ ایسا کرنے سے معیشت پر منفی اثر پڑے گا اور اس سے بہت سے لوگوں کی ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔

Brasilien Weltsozialforum in Porto Alegre Plakat

ڈاوس کے متوازی برازیل میں سوشل فورم جاری ہے

امریکی صدر باراک اوباما گزشتہ ہفتے اعلان کرچکے ہیں کہ بینکوں کو انتخاب کرنا ہوگا کہ یا تو وہ زمین کی لین دین کے معاملات میں سرگرم رہیں یا پھر روایتی طرز کی بینکاری پر توجہ دیں۔ بڑے بینکار اوباما کے اس اعلان سے خاصے ناخوش نظر آرہے ہیں۔

ڈاوٴس میں جاری اقتصادی فورم کے دوران ہیٹی کے زلزلہ متاثرین کے لئے مالی امداد اکھٹا کرنے کی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن بڑے بڑے تجارتی اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ کلنٹن کے بقول ہیٹی میں سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کے باسیوں کا امداد پر انحصار کم سے کم ہوسکے۔

چالیسویں سالانہ اقتصادی فورم میں تیس سربراہان مملکت اور اہم کاروباری شخصیات شریک ہیں۔ مندوبین کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔

دریں اثناء سوشلسٹ نظریات کے حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بعض حکومتیں کاربن گیس کے اخراج میں کمی کے معاملے پر اربوں ڈالر کمانے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔ یہ نظریہ برازیل میں جاری عالمگیریت مخالف ورلڈ سوشل فورم کے دوران بیان کیا گیا۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ماہر پیٹ مونے نے سوشل فورم میں کہا کہ جن کمپنیوں نے طویل عرصے تک کاربن گیس کے اخراج میں معاونت فراہم کی، آج وہی اس پر قابو پانے کی دعوے دار ہیں۔ سوشل فورم ہر سال عالمی اقتصادی فورم کے مقابلے میں منعقد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : گوہر نذیر گیلانی.

DW.COM