1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی اقتصادی صورت حال اور اناج کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی اقتصادی صورت حال میں پیدا شدہ ممکنہ ٹھہراؤ، کئی ملکوں میں اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتیں اور بدھ کو مالی منڈیوں میں مندی کے باعث انتشار کی کیفیت پیدا ہونے سےکاروباری حضرات میں عدم اعتماد پھر پیدا ہو گیا ہے۔

default

اناج کی قیمتوں میں اضافہ بھی کئی ملکوں میں بے سکونی کا سبب بن رہا ہے۔ اسی باعث روس کے ساتھ یوکرائن نے اناج کی برآمدات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ روس میں روٹی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے عام آدمی کو مشکل کا سامنا ہے۔ اناج کی قیمتوں میں تیس سے پچاس فیصد اضافے سے ماسکو حکومت پریشان ہے۔ روسی اقتصادی ماہرین اس کو ایک ماہ سے جاری خشک سالی کا نتیجہ خیال کرتے ہیں۔ دوسری جانب اناج کی قیمتوں میں اضافے کی کیفیت پاکستان، بھارت، سمیت شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ ماہرین کو یقین ہے کہ بقیہ یورپ بھی اس صورت حال سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اشیائے خوردونوش کی تھوک قیمتوں پر بھی امریکی مالی منڈیوں میں مندی دیکھنے میں آئی ہے۔

عالمی مالی منڈیوں میں شدید مندی سے اقتصادی صورت حال کے مزید گھمبیر ہونے کا احساس پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹوں میں دو سے تین فی صد تک حصص کی قیمیتیں گرنے سے انتشار اور بےسکونی نے کاروباری حضرات کے اندر عدم اعتماد پیدا کردیا ہے۔ اس مجموعی صورت حال کے ساتھ امریکی کرنسی ڈالر کی قدر میں گزشتہ پندرہ سالوں کی کمی بھی پیدا ہوئی گو بعد میں ڈالر کی قدر میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم یہ حالات اقتصادی صورت حال میں عدم توازن کا عندیہ دے رہے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ چین میں بھی اقتصادی ترقی کی رفتار میں سست روی کے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ چین میں بیرونی سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں کی پیداوار میں بھی کمی کو سرکاری طور پر محسوس کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے بینک آف انگلینڈ نے مستقبل کے لئے کمی کی شرح کی اوسط کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی مالی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث یہ صورت حال بنی ہے۔

عالمی مالی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں بھی کمی ہوئی جو 79 ڈالر سے کم ہو گئی۔

Flash-Galerie Traktor

یورپ بھی اناج کی قیمتوں میں اضافے کا شکار ہو سکتا ہے

عام ضرورت کی اشیا کی تھوک قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان غالب رہا۔ مبصرین کے مطابق اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر قوت خرید میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ دوسری جانب مبصرین یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ امریکی اقتصادی ترقی کی شرح میں ٹھہراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جو عارضی بھی ہو سکتی ہے۔ امریکی حکومت اپنے اخراجات میں اضافے کو بھی پلان کر رہی ہے تا کہ مالی منڈیوں کو استحکام حاصل ہو سکے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک امریکی حکومت نے اقتصادی جمود کو توڑ کر مناسب اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار حاصل کرنے کی جو حکمت عملی بنائی تھی وہ بیک فائر کر گئی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی مالی منڈیوں کے دوسری سٹاک مارکیٹوں پر پڑنے والے اثرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اکنامکس ایک تنہا اکائی نہیں اور دنیا کی دوسری اقتصادیات بھی اس سے جڑی ہیں۔ عالمی معاشی ماہرین موجودہ صورت حال پر ایک بارپھر الرٹ اور چوکس ہو گئے ہیں۔

امریکی مالی منڈیوں میں مندی کے رجحان نے یورپی سٹاک مارکیٹوں میں کارباری حضرات کو پریشانی سے دوچار کیا۔ سارے یورپ کے بازار حصص میں مندی غالب رہی۔ یہ مندی گزشتہ تین ہفتوں کے دوران سب سے زیادہ تھی۔ گزشتہ روز یورپ کے مختلف شہروں میں قائم سٹاک مارکیٹوں میں کم از کم چھ سو بینکوں کے حصص میں کمی واقع ہوئی جن کی مالیت مجموعی طور پر لاکھوں یورو بنتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس