1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی اقتصادیات میں بہتری تاہم خطرات بھی موجود

عالمی اقتصادیات کی نگرانی کرنے والے ادارے OECD کے مطابق عالمی سطح پر مالیاتی بحران کے اثرات میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، تو یورو کرنسی کو درپیش مسائل نے اس رجحان پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دئے ہیں۔

default

بدھ کی شام جاری کردہ ایک رپورٹ میں OECD نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں عالمی اقتصادیات میں نمو اور ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکڑتی ہوئی عالمی اقتصادات جو سال 2009ء میں صفر اعشاریہ نو فیصد تک گر گئی تھیں اب نمو پا کر چار اعشاریہ چھ فیصد تک جا پہنچی ہے، تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیٹا کے مطابق اس نمو کو چار اعشاریہ سات پانچ فیصد تک ہونا چاہئے تھا۔

نومبر میں اپنی گزشتہ رپورٹ میں اسی ادارے نے پیشین گوئی کی تھی کہ اس سال عالمی اقتصادی ترقی تین اعشاریہ چار فیصد جبکہ 2011ء میں میں تین اعشاریہ سات فیصد رہے گی۔

Symbolbild Sparen Euro Krise

یورو کرنسی اس وقت مشکلات کا شکار ہے

تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی نمو میں اضافے کی وجہ ایشیائی معیشتیں رہی ہیں، جنہوں نے اقتصادی بحران سے نکلنے میں جلد کامیابی حاصل کر لی۔ اس رپورٹ میں OECD نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح مختلف خطوں کے درمیان اقتصادی عدم توازن پیدا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کی جڑیں ابھی تک موجود ہیں اور وہ دوبارہ سر اٹھا سکتی ہیں۔

OECD نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں برس امریکہ کی شرح نمو، تین اعشاریہ دو فیصد رہے گی اور اگر یورو زون نے یورو کرنسی کو لاحق مسائل کا تدارک نہ کیا تو اس زون میں یہ شرح ایک اعشاریہ دو فیصد تک رہ جائے گی، جو اس خطے میں 1930ء کے بعد سب سے کم ترین سطح ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اقتصادی بحران سے نکلنے میں مخلتف ممالک کی حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی جانب سے ہنگامی مالیاتی پیکیجز اور عالمی مالیاتی فنڈکے اقدامات نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ OECD کے سیکریٹری جنرل نے اپنی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ عالمی مالیاتی بحران کے باعث دنیا بھر میں بدعنوانی میں اضافے کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM