1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی ادارہ تجارت میں روس کی رکنیت جلد متوقع

جارجیا کو امید ہے کہ اس کے روس کے ساتھ تجارتی مذاکرات آئندہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائیں گے۔ ان مذاکرات میں تعطل روس کی عالمی ادارہ تجارت میں رکنیت کی راہ میں آخری بڑی رکاوٹ ہے۔

default

جارجیا کے صدر میخائل ساکاشویلی

ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں میں روسی خبر ایجنسی انٹر فیکس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ماسکو گزشتہ 18 سال سے اس کوشش میں ہے کہ اسے عالمی تجارتی ادارے WTO کی رکنیت مل جائے، لیکن ماسکو کا جارجیا کے ساتھ تجارت کے شعبے میں اختلاف وہ آخری بڑی وجہ ہے، جو ابھی تک روس کی اس خواہش کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

جارجیا کے نائب وزیر خارجہ سیرگئی کاپا ناتزے نے آج جمعرات کو ملکی دارالحکومت تبلیسی میں کہا کہ تمام معاملات 10 نومبر تک اپنی تکمیل کو پہنچ جانے چاہیئں۔ ان کی مراد دونوں ملکوں سے متعلق عالمی ادارہ تجارت کے اس ورکنگ گروپ کا اگلا اجلاس تھا جو آئندہ ہفتے جمعرات کو ہو گا۔

جارجیا پہلے ہی WTO کا رکن ہے اور باقی تمام رکن ملکوں کی طرح اکیلا ہی کسی بھی نئے ملک کی رکنیت کو ویٹو کر کے رکوا سکتا ہے۔ تبلیسی حکومت پہلے تو سالہا سال تک عالمی ادارہ تجارت میں ماسکو کی رکنیت کو مسترد کرتی رہی لیکن پھر اکتوبر میں جارجیا نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر دونوں ملکوں کے مابین ایک دوطرفہ تجارتی سمجھوتہ طے پا جائے تو جارجیا WTO میں روس کی رکنیت کی حمایت کر دے گا۔

Flash-Galerie Hauptsitz WTO in Genf Schweiz

WTO کا رکن کوئی بھی ملک کسی بھی نئے ملک کی رکنیت کو ویٹو کر کے رکوا سکتا ہے

جارجیا اور روس کے درمیان 2008ء میں ایک مختصر جنگ بھی ہوئی تھی جس کے بعد سے ماسکو اور تبلیسی کے مابین سفارتی تعلقات ابھی تک منقطع ہیں۔ اس بارے میں ماسکو کے اعلیٰ ترین مذاکراتی نمائندے نے بدھ کو رات گئے اپنے ایک بیان میں یہ تصدیق کر دی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مصالحتی تجارتی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ تاہم اس روسی مندوب نے اس معاہدے کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارہ تجارت کے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں روس اور جارجیا کے درمیان اگر اس دو طرفہ معاہدے کی شرائط پر با ضابطہ اتفاق ہو گیا تو پھر WTO کے وزارتی سطح کے اگلے اجلاس میں روس کے لیے رکنیت کی منظوری دی جا سکے گی۔ یہ اجلاس 15 دسمبر کو جنیوا میں ہو گا۔

عالمی ادارہ تجارت کے رکن ملکوں کی موجودہ تعداد 153 ہے۔ روس اپنی معیشت کے حجم کے حوالے سے دنیا کا وہ سب سے بڑا ملک ہے جسے ابھی تک اس ادارے کی رکنیت نہیں ملی۔ روسی معیشت کا حجم 1.9 ٹریلین ڈالرز کے برابر ہے۔ اس ادارے کی رکنیت ملنے سے روس غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہت پرکشش ہو جائے گا اور سوویت یونین کے خاتمے کے دو عشرے سے بھی زائد عرصے بعد روسی معیشت کو عالمی اقصادیات کا مربوط حصہ بننے کا موقع بھی مل جائے گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: افسر اعوان

DW.COM