1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی ادارہٴ محنت کا سربراہ اجلاس

عالمی اقتصادی بحران کے بعد علیل اور بیمار صنعتوں ،مالی اداروں اور بڑے بڑے کارخانوں سے لاکھوں افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی سطح پر بے روزگار ی وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ آئی ایل او کی سمٹ اِسی موضوع پر ہے۔

default

عالمی اداہٴ محنت کا لوگو

اقوام متحدہ کے ادارے انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن ILO کے زیر اہتمام عالمی اقتصادی بحران کے تناظر میں پیدا ہونے والے روزگار کے بحران سے متعلق جنیوا میں ایک سربراہی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہٴ محنت کی یہ سہ روزہ سربراہی کانفرنس بدھ سترہ جون تک جاری رہے گی۔ موجودہ سربراہی اجلاس اس اعتبار سے منفرد اور اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے کہ اس میں قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر روزگار کے عالمی بحران کے سلسلے میں حکومتی اور عالمی کوششوں پر بیک وقت بحث کی جائے گی۔

Schweiz ILO Internationale Arbeits Organisation in Genf - Cristina Fernandez de Kirchner Präsidentin Argentinien

ارجنٹائن کی صدر جنیوا سربراہ اجلاس کے موقع پر

روزگار کے عالمی بحران کے تناظر میں عالمی ادارہٴ محنت کے اجلاس میں چار پینلز میں بحث جاری ہے:

* ایک پینل روزگار کے بحران کے تناظر میں عالمی اور علاقائی تعاون پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔

* دوسرا پینل ملکوں میں اقتصادی بحران کے بعد نوکریوں کی قلت کے حوالے سےترقیاتی تعاون کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے۔

* تیسرا پینل موجودہ بحرانی صورت حال میں بنیادی اصولوں اور اجرت کے حق کو زیر بحث لائے ہوئے ہے۔

* چوتھے پینل کے اراکین کی توجہ کا محور صنعتوں کے مالکان کی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی ہے۔

Schweiz ILO Internationale Arbeits Organisation in Genf - Nicolas Sarkozy Präsident Frankreich

عالمی اداہٴ محنت کے اجلاس میں فرانسیسی صدر تقریر کرتے ہوئے

بین الاقوامی ادارہ محنت کا یہ خصوصی سربراہ اجلاس حقیقت میں اس تنظیم کی سالانہ کانفرنس کا ایک کلیدی حصہ ہے۔ سربراہ اجلاس میں مختلف ملکوں کے نو سربراہان بھی شریک ہیں۔ ان میں پولینڈ، فن لینڈ، موزمبیق، برازیل، فرانس، ارجنٹائن کے صدور نمایاں ہیں۔ نو صدور کے علاوہ کچھ اور ملکوں سے چھ نائب صدور اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف رکن ریاستوں کے وزرائے محنت بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔

پندرہ جون کو گلوبل جاب کرائسس کے موضوع پر شروع ہونی والی اس سمٹ کا افتتاح عالمی ادارہٴ محنت کے ڈائریکٹر جنرل Juan Somavia کی تقریر سے ہوا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جس طرح عالمی اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لئے اقوام کے درمیان تعاون اور معاونت کا سلسلہ جاری ہے اسی انداز میں روزگار کے عالمی بحران کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ILO کے سربراہ نے تمام حکومتوں سے اپیل کی کہ بے روزگاری کے بحران کوحل کرنے کی طرف توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ اس بحران سے اقوام کے اندر بھوک، غربت اور بیماری کو افزائش مل رہی ہے۔

Juan Somavia unterschreibt ein Plakat gegen Kinderarbeit

عالمی ادارہٴ محنت کے سربراہ ژوان سوماویا

اس عالمی کانفرنس کے پہلے دن فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے اپنے خطاب میں روزگار کے بحران میں اقوام متحدہ کے فعال کردار کی ضرورت اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ سارکوزی کے مطابق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کو عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں بھی اپنی معروضات پیش کرنے کا حق ملنا ضروری ہے اور اس طرح عالمی مالیاتی پالیسیوں میں اس کی مشورت موجود رہے گی۔

سربراہ اجلاس میں موجود کئی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی مالیاتی بحران میں کمی کے اشارے سامنے آنا حوصلہ افزاء ہے لیکن بے روزگاری کے عالمی بحران میں ایسے حوصلہ افزاء اشارے مزید تاخیر سے سامنے آئیں گے۔

عالمی اداہٴ محنت ہر سال محنت اور آجر و مزدور کے معاملات کے حوالے سے بین الاقوامی اجلاس کا اہتمام کرتا ہے۔ خصوصی سربراہ اجلاس کے ساتھ ساتھ 98 واں اجلاس بھی جاری ہے۔