1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عازمین حج کے لیے ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات

سعودی حکام نے کہا ہے کہ اس مرتبہ حج کے سالانہ اجتماع کے دوران سکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ایک لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

مسلمانوں کا ’مقدس فریضہ‘ حج منگل کے دن سے شروع ہو رہا ہے۔ سعودی حکومت ایسے خدشات ظاہر کر چکی ہے کہ مناسک حج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسی لیے سعودی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ حاجیوں کی سکیورٹی ریاض حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

عازمین جج کا سعودی عرب آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاض حکومت نے کہا ہے کہ اس مرتبہ بھی حج کے سالانہ اجتماع کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور توانائی اور وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں حج سیزن کے لیے ایک لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو چوکنا کر دیا گیا ہے۔

میجر جنرل منصور الترکی کے بقول اس بڑے اجتماع کے دوران انسداد دہشت گردی کی ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کے علاوہ ٹریفک پولیس اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں کو بھی فرائض سونپے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سکیورٹی ٹیم کو ملکی فوج کے اضافی سپاہیوں اور نیشل گارڈز کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔

Die schlimmsten Airports der Welt (Bildergalerie) Jeddah King Abdulaziz

توقع ہے کہ رواں حج سیزن میں دنیا بھر سے تین ملین مسلمان سعودی عرب کا رخ کریں گے۔

اس مرتبہ یمن میں جاری تنازعہ اور شام و عراق میں انتہا پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے ایسے امکانات ہیں کہ غالبا یہ جنگجو دوران جج بھی کوئی پرتشدد کارروائی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔

سعودی عرب میں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے ریاض حکومت اس سال مناسک حج کے دوران کچھ زیادہ ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے۔ منصور الترکی نے ہفتے کے دن اے پی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران البتہ کہا کہ جنگجو سعودی عرب کے ایک سینی میٹر حصے کو بھی کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ رواں حج سیزن میں دنیا بھر سے تین ملین مسلمان سعودی عرب کا رخ کریں گے۔