1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عابی جان پر قبضے کی جنگ شدید تر

افریقی ملک آئیوری کوسٹ میں اقتدار کی جنگ کا فیصلہ کن موڑ آ گیا ہے۔ باگبو اور وتارا کی حامی فوجیوں کے درمیان شدید جنگ جاری ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے باگبو کو اقتدار فوری طور پر چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

default

قرن افریقہ کے ملک آئیوری کوسٹ کے مالیاتی مرکز اور اہم شہر عابی جان کے اندر صورت حال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔ گولہ باری اور فائرنگ کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ شہر کے مغربی حصے میں اقتدار پر قابض لاراں باگبو اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ صدر السان وتارا کی حامی افواج کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سفارتکاروں کا خیال ہے کہ باگبو کی فوج کی جانب سے توقع سے زیادہ سخت مزاحمت کی جا رہی ہے۔

وتارا اور باگبو کی فوجیں بھاری توپ خانے کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔ وتارا کی فوج کا نشانہ صدارتی محل ہے جہاں امکانی طور پر ان دنوں میں باگبو مقیم ہیں۔ سویلین کی ہلاکتوں کے بارے میں تو کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے لیکن اقوام متحدہ کے امن دستے کے چار باوردی افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ فوجی باگبو کی فوج کی گولہ باری سے زخمی ہوئے تھے۔ عابی جان شہر کے اندر جاری جنگ کے ہلاک شدگان کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

Elfenbeinküste Armee NO FLASH

وتارا کے حامی فوجی

آئیوری کوسٹ کے مغربی حصے میں قتل و غارتگری کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ کیتھولک عقیدے کے خیراتی ادارے Caritas کے مطابق وتارا کی فوج کے کنٹرول والے علاقے Duekoue میں بے شمار افراد کو لمبے چاقوؤں یا فائر سے ہلاک کیا گیا تھا۔ خیراتی ادارے کے مطابق اس کے عملے کو سینکڑوں لاشیں دستیاب ہوئی ہیں۔ اس علاقے میں قتل عام 27 اور 29 مارچ کے درمیان کیا گیا۔ ہلاک ہونے والے وہ افراد ہیں جو کیتھولک عقیدے کے ہزاروں پناہ گزینوں کے رکھوالے تھے۔

عابی جان میں صدارتی محل کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے صدر دفتر کے ساتھ ساتھ اگبان (Agban) ملٹری بیس کے باہر فوجیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ فریقین کو توپ خانے کا سہارا بھی حاصل ہے۔ ٹیلی وژن پر باگبو کی فوج کے جانب سے فوجیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومتی اداروں کو بچانے کے لیے متحرک ہو جائیں۔ گزشتہ روز وتارا کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ آئیوری کوسٹ کے ٹیلی وژن اور ریڈیو پر ان کا قبضہ ہو گیا ہے۔

عابی جان کے اندر خوراک کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ وتارا اور باگبو کی جنگ میں ہزاروں سویلین موت کے خوف میں زندہ ہیں۔ خوف و ہراس کی وجہ سے لوگ گھروں کے اندر چھپے بیٹھے ہیں۔ کئی مسلح گروہ شہر میں لوٹ مار کے عمل میں مصروف ہیں۔ طبی امداد کے بین الاقوامی ادارے (MSF) نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ اپنے مال کی بھی دیکھ بھال کریں کیونکہ جرائم پیشہ گروہ متحرک ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک بار پھر اقتدار پر قابض لاراں باگبو سے کہا ہے کہ وہ منصب صدارت سے علیحدہ ہو کر عابی جان میں جاری جنگ کو ختم کرنے میں عملی کردار ادا کریں۔ کلنٹن کے مطابق باگبو کی وجہ سے آئیوری کوسٹ میں لاقانونیت کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس