1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طیارہ حادثہ: پاکستان کی خاتون فائٹر پائلٹ ہلاک

پاکستان میں ایک تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں خاتون لڑاکا پائلٹ مریم مختار ہلاک ہو گئی ہیں۔ پاکستان فضائیہ کے مطابق ان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون پائلٹ نے ’’جام شہادت نوش‘‘ کیا ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کے مطابق یہ حادثہ آج منگل کے روز صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ ’ایف ٹی سیون پی جی‘ طیارہ ایک تربیتی پرواز پر تھا کہ گر کر تباہ ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مریم مختار اور ان کے شریک پائلٹ سکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی ہنگامی اقدامات کے تحت طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن دونوں کو شدید چوٹیں پہنچی تھیں جبکہ مریم مختار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

پاکستان فضائیہ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی فضائی حادثے میں کوئی خاتون پائلٹ ہلاک ہوئی ہوں۔ نیویارک ٹائمز کے ایک آرٹیکل کے مطابق پاکستان فضائیہ نے خواتین کے لیے لڑاکا پائلٹ کی تربیت کا آغاز سن دو ہزار پانچ میں کیا تھا اور اس وقت اس ملک کے پاس اکیس حاضر سروس خواتین پائلٹس موجود ہیں۔ پاکستانی فوج میں خواتین کو زیادہ تر تعلیم اور طب کے شعبے تک ہی رکھا جاتا ہے۔ سن دو ہزار تیرہ میں پاکستان کی لڑاکا پائلٹ عائشہ فاروق نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا کی پہلی لڑاکا پائلٹ بننے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں پاکستانی ایئر فورس کے متعدد تربیتی طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ طیارے بہت پرانے ہو چکے ہیں۔

پاکستان فضائیہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ثاقب عباسی کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور وہ اس حادثے میں محفوظ رہے ہیں۔ بیان کے مطابق، ’’دونوں پائلٹوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کے ساتھ سنگین ہنگامی صورتحال کو سنبھالا اور بہت آخری لمحے تک بدقسمت طیارے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔‘‘

حکام نے بتایا ہے کہ زمین پر عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پائلٹ ہنگامی طور پر طیارے سے نکلنے پر مجبور ہوئے اور جہاز گر کر تباہ ہو گیا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستانی خواتین پر میدان جنگ میں لڑنے کے لئے اب بھی پابندی عائد ہے۔ پاکستان ائیر فورس میں اس وقت تین سو سے زائد خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔