1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طورخم سرحد پر کشیدگی، پاک فوج کے میجر علی جواد خان ہلاک

گزشتہ روز طورخم بارڈر پر افغان افواج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں زخمی ہونے والے پاکستان کی فوج کے میجرعلی جواد خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے، ’’میجر علی جواد خان گزشتہ روز افغان افواج کی جانب سے کی جانے والی بلا اشتعال فائرنگ میں زخمی ہوگئے تھے، وہ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور پشاور کے عسکری ہسپتال ’سی ایم ایچ‘ میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کا جنازہ پشاور میں ادا کر دیا گیا ہے اور میجرعلی جواد خان کو ان کے آبائی شہر کوئٹہ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔‘‘

پاک افغان سرحد پر کشیدگی کا آغاز اتوار کے روز سے ہوا۔ اس حوالے سے آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی آمد و رفت پر نظر رکھنے کے لیے ایک گیٹ تعمیر کر رہا ہے اور اتوار کے روز اس گیٹ پر افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ پاکستان کی فوج کی جانب سے پیر کے روز اس گیٹ کی تصویر بھی جاری کی جو ظاہر کرتی ہے کہ اس گیٹ کو پاک افغان سرحد سے 37 میٹر پاکستانی علاقے کے اندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان حکومت پاک افغان سرحد کو تسلیم نہیں کرتی اور اس بارڈر کو ریگیولیٹ کرنے کی مزاحمت کرتی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغانستان کی جانب سے کی جانے والی بلا اشتعال فائرنگ پر کابل سے شدید احتجاج کیا ہے اور اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو بھی طلب کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، ’’پاکستان نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آنے کو یقینی بنائے‘‘۔

دوسری جانب ’وائس آف امریکا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے چیف ایگزیکیٹیو عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو سرحد پر کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے آغاز سے قبل ایک دوسرے کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ اٰفغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’افغان سکیورٹی اور دفاعی افواج نے اپنے ملک اور اس کے لوگوں کا دفاع کرتے ہوئے جوابی کاروائی کی تھی۔‘‘

DW.COM