1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’طورخم سرحد پر سکیورٹی گیٹ پیر سے فعال ہو جائے گا‘

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ افغان سرحد سے متصل طورخم بارڈر پر سکیورٹی گیٹ آئندہ ہفتے سے فعال کر دیا جائے گا۔ کابل حکومت کی طرف سے اعتراض کے باوجود اسلام آباد اس متنازعہ سرحد پر سکیورٹی بڑھانا چاہتا ہے۔

afghanische Grenzsoldaten in Torkham Grenze zu Pakistan

کابل حکومت کی طرف سے اعتراض کے باوجود اسلام آباد اس متنازعہ سرحد پر سکیورٹی بڑھانا چاہتا ہے

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے اٹھائیس جولائی بروز جمعرات پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ طورخم بارڈر پر تعمیر کیا گیا سکیورٹی گیٹ پیر سے فعال کر دیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ اس گیٹ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ وزیر دفاع آصف خواجہ نے دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا، ’’ہم اس منصوبے کو پایہ تکیمل تک پہنچائیں گے۔‘‘

افغان حکومت نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ اس متنازعہ سرحدی گزر گاہ پر مستقل سکیورٹی نظام کو متعارف نہیں کرانا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق پاکستان کی طرف سے اس اقدام پر دونوں ہمسایہ ممالک میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

جب پاکستان نے گزشتہ ماہ اس سکیورٹی گیٹ کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا تو پاکستانی اور افغان افواج کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں اطراف کے نصف درجن جوان مارے گئے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین اس مصروف ترین سرحدی راستے پر لیکن پاکستانی علاقے میں سکیورٹی گیٹ کی تعمیر کا یہ منصوبہ دراصل اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ پاکستان اپنے ہاں افغان باشندوں کی غیر قانونی آمد روک سکے۔

یہ امر اہم ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو ہزار کلو میٹر سے زائد طویل سرحد دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تناؤ کا سبب ہے۔ ڈیورںڈ لائن نامی اس سرحد کو انیسویں صدی میں برطانوی راج کے دور میں تقسیم کیا گیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین اس سرحد کی آٹھ تسلیم شدہ گزرگاہوں پر پاکستان ایسے ہی سکیورٹی انتظامات کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے جون میں طورخم سرحد سخت سکیورٹی اقدامات کرنے سے قبل یومیہ ہزاروں افراد اس گزر گاہ کا استعمال کرتے تھے۔