1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

طلاق کے يورپی قوانين: بچوں اور والدين کو اذيت

يورپی يونين کے شہری يہ محسوس کررہے ہيں کہ يونين کے قوانين اُن کی زندگی پر مسلسل زيادہ اثر انداز ہوتے جارہے ہيں۔ شادی اور طلاق جيسے انسانی زندگی کے بہت اہم مسائل کے سلسلے ميں بھی کچھ يہی صورتحال ہے۔

default

بسا اوقات يہ مسائل اتنے پيچيدہ ہوجاتے ہيں کہ متاثرہ افراد کو خاصی اذيتيں بھی سہنا پڑتی ہيں۔

29 سالہ اوليور ہاؤزر ايک جرمن ہيں۔ وہ شہر اشافن بُرگ کے قريب ويب ڈزائنر کا کام کرتے ہيں۔ وہ پہلے مکينک تھے اور ملازمت کے لئے اکثر مشرقی يورپ جاتے رہتے تھے۔ اسی دوران ايک مرتبہ ان کی ملاقات سلوواکيہ کی ايک خاتون سے ہوئی تھی اور دونوں ميں محبت اور وفاداری کے عہدوپيمان ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ان دونوں نے جرمنی آکر شادی بھی رچا لی۔ اب يہ عالم ہے کہ يہ خاتون نہ تو اپنا نام بتانا پسند کرتی ہيں اور نہ ہی کسی بھی طرح سے کہيں اپنا ذکر ديکھنا چاہتی ہيں۔انٹرويو لينے کا تو سوال ہی پيدا نہيں ہوتا۔ يوں صورتحال تناؤ سے پر ہے۔ وہ باپ کو کسی طرح کی اطلاع ديے بغير اور باپ کی مرضی کے بغير چھ سالہ بيٹے دارن کواپنے ساتھ سلو واکيہ لے گئيں۔ يہ کام انہوں نے بالکل اچانک اور راتوں رات کيا۔ ظاہر ہے کہ باپ اوليور ہاؤزر کو اس سے شديد تکبيف پہنچی۔ اس واقعے کو اب چار سال ہوچکے ہيں۔

Symbolbild Trennung und Scheidung

شادی اور عليحدگی کا ايک علامتی فوٹو

اوليور نے اپنے بيٹے کی محبت اور ياد ميں اُس کے کمرے اور چيزوں کو بھی اُسی حالت ميں رہنے ديا جيسا کہ وہ اُس کے جانے کے وقت تھيں۔ ايسا معلوم ہوتا تھا کہ جيسے دارن ابھی ابھی کھيلنے کے لئے باہر گيا ہو اور کچھ دير بعد ہی واپس آ جائے گا۔ اوليور کو اب بھی يہی اميد ہے کہ اُن کا بيٹا دوبارہ اُن کے پاس آجائے گا۔ اُنہوں نے کہا:

’’ ميں وقتاً فوقتاً اپنے بيٹے سے ٹيليفون پر بات کرتا رہتا ہوں ۔ وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ ہم کب مليں گے۔ ليکن پھر وہ سبز رنگ کے جہاز کی بات کرنے لگتا ہے جس ميں اُسے سلوواکيہ لے جايا گيا تھا، اور يہ مجھے کچھ اچھا نہيں لگتا کيونکہ مجھے يہ نہيں معلوم کہ وہ کب ميرے پاس آنے کے لئے جہاز ميں سوار ہو سکے گا۔‘‘

اوليور ہاؤزر عدالت کا رُخ کرنا چاہتے ہيں تاکہ وہ اپنے بيٹے کی پرورش اور ديکھ بھال کا قانونی حق حاصل کرسکيں۔انہيں اس کی بہت اميد ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کسی سے اُس کے بچے کو چھين لينے کو برداشت نہيں کيا جاسکتا اور يہ بات ہر معقول آدمی سمجھ سکتا ہے۔

ليکن اپنے بيٹے کو اپنے پاس رکھنے اور اس کی پرورش کا حق حاصل کرنے کے لئے اوليور کی کوششيں ابھی تک ناکام رہی ہيں حالانکہ عالمی اور يورپی ضوابط کے تحت يہ بالکل واضح ہے کہ بچوں کو اُسی ملک ميں واپس لايا جانا چاہيے جہاں سے اُنہيں اغوا کيا گيا تھا۔

يورپی يونين کی کمشنر ويويان ريڈنگ اس طرح کے کيسز سے اچھی طرح سے واقف ہيں۔ وہ اس سلسلے ميں رکن ممالک کے قومی قوانين کو تو تبديل نہيں کر سکتيں، ليکن وہ يہ چاہتی ہيں کہ مستقبل ميں دو قوميتی جوڑوں کی طلاق کے مسائل زيادہ آسان بنا ديے جائيں اور ان کے بچوں کو بھی بہتر تحفظ مل سکے۔ اُنہوں نے کہا:

’’ ہم اس پر توجہ ديتے ہيں کہ يہ جوڑا کس ملک ميں مقيم تھا اور اب وہ کہاں رہ رہا ہے۔ اس ملک کا قانون کيا کہتا ہے۔ ملکی عدالت سے فوری طور پر رجوع کيا جاتا ہے تاکہ رن ٹو دی کورٹ، يعنی ايسی عدالت کے چناؤ کو روکا جا سکے جس ميں کمزور فريق کا نقصان ہوتا ہو۔‘‘

اوليور ہاؤزر کے کيس ميں ملکی عدالت جہاں جوڑا رہتا تھا، شہر اشافن بُرگ کی جرمن عدالت ہوئی۔ ليکن شروع ميں اشافن بُرگ کی عدالت نے يہ ذمے داری قبول نہيں کی تھی۔ اُس کے مقابلے ميں سلوواکيہ کی عدالت تيزی سے آگے بڑھی۔ اس دوران اس عدالت نے طلاق کا فيصلہ دے ديا ہے اور اُس نے بچے کی پرورش اور ديکھ بھال کا حق ماں کو ديا ہے۔ اوليور نے شکايت کی کہ سلوواکيہ کی عدالت نے اُنہيں اپنا موقف بيان کرنے تک کا موقع ديے بغير بہت عجلت ميں طلاق کا فيصلہ سنا ديا۔

يورپی ملکوں ميں طلاق کے قوانين ايک دوسرے سے بہت مختلف ہيں اور جرمنی ميں ہر آٹھويں شادی کا تعلق کسی غير ملکی سے ہونے کے باوجود يہاں قانون کا ہر دسواں طالبعلم بھی نجی اور خانگی شعبے کے عالمی قوانين نہيں سيکھتا۔ اس کا خميازہ اوليور ہاؤزر جيسے والدين کو بھگتنا پڑرہا ہے جو اپنے بچوں کے لئے تڑپتے رہتے ہيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: سائرہ حسن

DW.COM