1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طلاق کے عمران خان کی سیاست پر اثرات

اس وقت سب سے زیادہ یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ عمران خان اور ریحام خان کی طلاق کے خود عمران خان یا پی ٹی آئی کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جانیے تجزیہ کار کیا کہتے ہیں!

عمران خان اور ریحام کی علیحدگی کا فیصلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کل (ہفتہ ) کو پنجاب اور سندھ میں پہلے مرحلے کے تحت بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ ہو گی۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران اور ریحام خان کے درمیان طلاق کے معاملے کا بلدیاتی انتخابات یا عمران خان کی سیاست پر زیادہ اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔ جیو نیوز چینل سے وابستہ سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ شادی اور پھر طلاق عمران اور ریحام خان کا انتہائی ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ملکی یا پی ٹی آئی کی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا، "میرے خیال میں یہ ایک نان ایشو ہے اور اس کی وجہ سے کسی بھی بڑے سیاسی دھچکے کی یا نقصان کی بات کرنا فضول ہے ۔"

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی مقبولیت کو ان کی شادی یا طلاق سے جوڑنا کسی طور پر بھی درست نہیں ہو گا۔

دوسری جانب عمران خان اور ان کی جماعت کے رہنماؤں کی میڈیا سے ان کی طلاق کے معاملے کو نہ اچھالنے کی درخواستوں کے باوجود پاکستانی میڈیا میں آج کا سب سے بڑا موضوع عمران خان اور ریحام خان کی طلاق کا ہی ہے۔ ٹی وی چینل ہر زاویے سے اس رشتے کے خاتمے کے اسباب کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالفین اس معاملے کو زیادہ سے زیادہ اچھالنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’جو بھی عمران کے سیاسی مخالف ہیں، وہ کوشش کریں گے کہ ریحام کو استعمال کرتے ہوئے وہ عمران یا ان کی جماعت کو غیرمقبول ثابت کرنے کی کوشش کریں اور اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس معاملے کے بلدیاتی انتخابات کی سیاست پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔"

دوسری جانب بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے درمیان اختلافات کی ایک وجہ ریحام خان کے سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے عزائم تھے۔ ڈان نیوز سے وابستہ اینکر پرسن مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیاسی ماحول کو دیکھیں تو یہ بھی بعید نہیں کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) ریحام خان کو اپنے پلیٹ فارم سے سیاست کے لئے مدعو کرے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ریحام کسی دوسری سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاست کریں گی یا نہیں یہ تو بعد کے حالا ت میں ہی پتہ چلے گا لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یقیناﹰ عمران خان کے لئے سیاسی طور پر مشکلات ہو سکتی ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ ریحام خان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اس وقت لندن میں موجود ہیں اور پاکستان واپسی کے بارے میں فیصلہ وہ چند دن بعد ہی کریں گی۔ ریحام خان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان بھی برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ریحام خان کے اپنے پہلے شوہر سے تین بچے بھی ہیں جو ان کے ساتھ ہی بنی گالا میں رہائش پذیر تھے۔

عمران خان اور ریحام کی علیحد گی کا معاملہ سوشل میڈیا میں بھی خوب گرم ہے۔ اس ضمن میں مخلتف شخصیات کی جانب ٹوئٹس بھی کیے جارہے ہیں۔ ایک ٹویٹ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کہا، ’’عمران خان کی دوسری وکٹ بھی گر گئی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران کرکٹ کے میدان میں وکٹوں کی ہیٹ ٹرک نہ کر سکے جبکہ اصل زندگی میں کرنے کا بہترین موقع ہے۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان تنہا رہنے کو ترجیح دیں گے یا مستقبل میں اپنی ازدواجی زندگی دوبارہ شروع کریں گے دونوں ہی صورتوں میں انہیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا ورنہ یہ معاملہ کسی حد تک ان کی سیاسی اننگز کو ضرور متاثر کرے گا۔