1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس ہمارے قبضے میں ہے، سیف الاسلام قذافی کا دعویٰ

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام قذافی نے طرابلس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے باغیوں کے ان دعووں کو مسترد کر دیا، جن میں کہا جا رہا ہے کہ دارالحکومت کا بڑا حصہ ان کے زیرقبضہ ہے۔

default

سیف الاسلام نے نعرے لگاتے پرجوش حامیوں اور مسلح اہلکاروں کے ہمراہ طرابلس کے اس ہوٹل کا دورہ کیا، جہاں غیر ملکی صحافی مقیم ہیں۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق سیف الاسلام کے اس دورے کا مقصد اپنی حامی فورسز کا جذبہ بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

سیف الاسلام نے، جنہیں قذافی کا جانشین بھی سمجھا جاتا ہے، کہا کہ حکومت باغیوں کے خلاف جنگ جیت کر ہی دم لے گی۔ سیف الاسلام صحافیوں کو لے کر اپنے والد کی رہائش گاہ باب العزیزہ بھی گئے۔ ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں سیف الاسلام اپنے حامیوں کے نعروں کا جواب دیتے، مسکراتے اور ہاتھ ہلاتے دکھائے دیے۔ انہوں نے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے فتح کا نشان بنا رکھا تھا۔

’’ہم نے باغیوں کی کمر توڑ دی ہے۔ ہم نے انہیں سخت سبق سکھا دیا ہے۔ اس لیے ہم جیت رہے ہیں۔‘‘

Bürgerkrieg in Libyen Erfolg der Rebellen

طرابلس میں جشن منانے کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے

اس سے قبل باغیوں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے سیف الاسلام قذافی کی گرفتاری کی رپورٹیں سامنے آئی تھیں، تاہم بعد میں باغیوں کا کہنا تھا کہ سیف الاسلام ان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سیف الاسلام کے یوں بین الاقوامی میڈیا کے سامنے آنے سے باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے دعووں پر بھی کئی طرح کے سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں۔

سیف الاسلام نے دعویٰ کیا کہ طرابلس مکمل طور پر حکومتی فورسز کے کنڑول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دی ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے اور ان کے والد کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹس کی کوئی پرواہ نہیں۔ باغیوں نے بین الاقوامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیو فوٹیج کو ’مشکوک‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل باغی کئی سمتوں سے طرابلس پر حملہ آور ہوئے تھے، جس کے بعد طرابلس کے اندر موجود قذافی مخالف بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق شہر کے متعدد علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے لڑائی جاری ہے اور طیارہ شکن توپوں کا شور بھی وقفے وقفے سے بلند ہو رہا ہے جبکہ متعدد عمارتوں میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز طرابلس کے ایسے رہائشی، جو باغیوں کے حملے اور قذافی کی حامی افواج کے پسپا ہونے پر طرابلس کی سڑکوں پر جشن منا رہے تھے، اس وقت مشین گنوں سے جاری فائرنگ کے باعث اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM