1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے سامنے آنے سے باغیوں کی کامیابیوں کے دعؤوں کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ فرانس کا بھی کہنا ہے کہ ابھی باغیوں کی فتح مکمل نہیں ہوئی ہے۔

default

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طرابلس میں قذافی کے رہائشی کمپاؤنڈ باب العزیزیہ کے باہر شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ اس لڑائی میں استعمال ہونے والے اسلحے کی گھن گرج دور تک سنائی دے رہی ہے۔ خاصی دور سے دھوئیں کے اٹھتے بادل بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس لڑائی میں شرکت کے لیے دوسرے شہروں سے باغیوں کے لشکریوں کی مسلسل شہر میں آمد ہو رہی ہے۔

دوسری طرف اتوار کی رات طرابلس شہر میں داخل ہو کر باغی مرکزی گرین چوک تک ضرور پہنچے اور اس پیش رفت پر باغی لیڈرشپ نے کہنا شروع کردیا تھا کہ قذافی کا عہد ختم ہو گیا اور طرابلس پر قبضے کی جنگ اب گھنٹوں کی بات رہ گئی ہے، لیکن تاحال لیبیا کی اندرونی صورت حال واضح نہیں ہے۔

Flash-Galerie Libyen Gaddafi Rebellen nehmen Hauptstadt Tripoli ein

طرابلس کی مجموعی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے

طرابلس شہر پر کنٹرول کے باغیوں اور قذافی حکومت کے دعوے موجود ہیں۔ سیف الاسلام نے میڈیا کے سامنے ظاہر ہوکر اپنی گرفتاری کی خبر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا۔ اسی طرح قذافی کا گرفتار بڑا بیٹا محمد بھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ لیبیا پر بیالیس برسوں سے حکمران معمر القذافی کے بارے میں کسی قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ اسی تناظر میں باغیوں کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ معمر القذافی کی گرفتاری تک طرابلس کی جنگ جاری رہے گی۔

طرابلس میں باغیوں کے داخل ہونے پر فرانس نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کے لیے مقرر بین الاقوامی کانٹیکٹ گروپ کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ آلاں ژوپے کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ موجودہ کامیابی  کو مکمل فتح کا نام نہیں دیا جا سکتا اور اس وقت مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق فرانس، برطانیہ، ترکی، جرمنی، امریکہ اور کچھ عرب ممالک نے تازہ صورت حال کے تناظر میں ٹیلی کانفرنس کا اہتمام بھی کیا تھا۔

Flash-Galerie Libyen Gaddafi Sohn Saif al-Islam in Tripolis

سیف الاسلام قذافی نے ظاہر ہو کر باغیوں کے دعوے کو جھوٹ قرار دیا

لیبیا کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں کانٹیکٹ گروپ کے سفارتکاروں کی میٹنگ بھی جمعرات 25 اگست کو طلب کر لی گئی ہے۔ ترک وزیر خارجہ اس وقت بن غازی پہنچے ہوئے ہیں۔ اسی طرح لیبیا کی صورت حال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس ویک اینڈ پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس میٹنگ میں افریقی یونین، یورپی یونین، عرب لیگ اور دوسرے علاقائی گروپوں کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ایران نے بھی لیبیا کی عوام کو قذافی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابی پر مبارک باد روانہ کی ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ لیبیا کی عوام جلد قذافی سے نجات حاصل کر لیں گے۔

دوسری جانب باغیوں کی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے بن غازی میں طلب کی گئی پریس کانفرنس میں یہ ضرور کہا کہ قذافی کا عہد ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے نیٹو کی فوجی مدد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ طرابلس شہر کے تمام علاقوں پر ان کا قبضہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ جلیل نے یہ بھی کہا کہ اہم اور پرمسرت لمحہ قذافی کی حراست کا ہو گا۔ باغیوں کے لیڈر نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ قذافی کو یقیناً زندہ گرفتار کر لیا جائے گا تا کہ وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کر سکے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  افسر اعوان

 

DW.COM