1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس پر نیٹو کے تازہ حملے

نیٹو نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں سلسلہ وار حملے کیے ہیں، جنہیں اس مشن کی اب تک کی سخت ترین کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ معمر قذافی کو اقتدار سے لازمی طور پر علیحدہ کرنا ہو گا۔

default

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو علی الصبح طرابلس میں کم از کم بارہ بڑے دھماکے ہوئے ہیں۔ حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہیم کا کہنا ہے کہ تین افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان حملوں کا نشانہ پاپولر گارڈز کا کمپاؤنڈ تھا۔ موسیٰ ابراہیم نے بتایا کہ حملے کے خدشے کے پیشِ نظر کمپاؤنڈ پہلے ہی خالی کیا جا چکا تھا، اس لیے اس کے قریب آباد لوگ ہی حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔

فرانس، برطانیہ اور امریکہ کی سربراہی میں نیٹو کے جنگی طیارے لیبیا پر دو ماہ سے زائد عرصے سے بمباری کر رہے ہیں۔ ان کی یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کی جانب سے قذافی نواز فورسز سے شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن کارروائی کی منظوری کے بعد شروع ہوئیں۔

US-Außenministerin Hillary Clinton

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

اُدھر امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے روزنامہ ’دی ٹائمز‘ کے لیے مشترکہ مضمون میں لکھا ہے، ’ہم نے اس (قذافی) کی جنگی مشین کو نیچا دکھاتے ہوئے تباہ کن تباہی کا رخ موڑ دیا ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی قرار داد کا نفاذ جاری رکھیں گے۔‘

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پیر کو لندن میں نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا، ’ہمیں یقین ہے کہ وقت قذافی کے خلاف جا رہا ہے اور وہ ملک پر دوبارہ کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے قانونی اور معتبر عبوری کونسل بنا لی ہے، جو جمہوریت کے لیے سنجیدہ ہے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا، ’ان (باغیوں) کی ملٹری فورسز بہتر ہو رہی ہیں اور قذافی کے جانے کے بعد ایک نیا لیبیا آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوگا۔‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سترہ مارچ کو قرار داد کے ذریعے لیبیا کے لیے نوفلائی زون کا اعلان کیا تھا۔ ساتھ ہی سیز فائر اور شہریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جرمنی نے باغیوں کے گڑھ بن غازی میں اپنا مشن دفتر کھول دیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بتایا کہ ایک تجربہ کار سفارت کار نے بن غازی میں کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد کیا گیا ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی بن غازی میں اپنا مشن آفس قائم کر چکی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس