1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس پر نیٹو کا اب تک کا سب سے بڑا حملہ

نیٹوکے طیاروں نے منگل کو لیبیا کے رہنما قذافی کے کمپاؤنڈ پر شدید ترین بمباری کی۔ دوسری طرف فرانس اور برطانیہ نے لیبیا میں اپنی فوجی کارروائی کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے وہاں حملہ آور ہیلی کاپٹر روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

طرابلس میں واقع معمر القذافی کے کمپاؤنڈ باب العزیزیہ پر آج علی الصبح ہوئے فضائی حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس علاقے سے دو کلو میٹر دور تک کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے بقول یہ حملے فوجی اہداف پر کیے گئے۔

برسلز میں نیٹو حکام کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا،’ یقینی طور پر اب تک ہم نے جو حملے کیے ہیں ، ان میں سے کسی ایک ہدف پر کیا جانے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا‘۔

طرابلس حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ان حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ 150 زخمی ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلاک شدگان مقامی باشندے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان حملوں میں فوج کو مدد فراہم کرنے والے رضاکاروں کی بیرکوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم ممکنہ حملوں کے پیش نظر یہ بیرکیں پہلے سے ہی خالی کردی گئی تھیں،’ حملے کے وقت بیرکیں خالی تھیں۔ اس لیے ان حملوں سے متاثر ہونے والوں میں زیادہ ترعام شہری ہیں، جو آس پاس رہتے ہیں‘۔

NO FLASH NATO Angriff Tripolis Libyen

اب تک نیٹو اتحاد نے لیبیا میں جو حملے کیے ہیں ، ان میں سے کسی ایک ہدف پر کیا جانے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا

دوسری طرف فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ معمر القذافی کی افواج کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر حملہ آور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کرے گی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے نے کہا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نیٹو افواج کے حملوں میں بہتری آئے گی اور وہاں شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکےگا۔

برسلز منعقدہ یورپی یونین کے خارجہ اور دفاعی امور کے وزراء کے ایک اجلاس کے موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ پیرس حکومت لیبیا آپریشن کے لیے Tigre اور Gazelle نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو افواج آئندہ کچھ ہفتوں کے دوران اپنی عسکری کارروائی میں تیزی لائیں گی تاہم اس کے ساتھ ساتھ لیبیا کے بحران کے حل کے لیے سیاسی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔

دریں اثناء کئی ناقدین نیٹو کی عسکری کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ نیٹو اتحاد اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے معمر القذافی کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج قذافی کی فوجوں کو پسپا کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

اگرچہ باغیوں نے ملک کے مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم طرابلس میں ابھی تک قذافی کی افواج قابض ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قذافی کے حامی فوجی دستے باغیوں کے ٹھکانوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس