1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

طرابلس پر نیٹو طیاروں کے نئے شدید حملے

لیبیا میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے ارتکاب کی اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت کے ایک روز بعد نیٹو جنگی طیاروں سے کیے گئے حملوں نے آج جمعرات کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کو ہلا کر رکھ دیا۔

default

عالمی ادارے کی طرف سے کل بدھ کے روز اس بات کی کھل کر مذمت کی گئی تھی کہ معمر قذافی کی حامی فوجوں اور قذافی کے مخالف باغیوں، دونوں کی طرف سے اس مسلح تنازعے میں شدید نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ ملکی دارالحکومت طرابلس پر مغربی دفاعی اتحاد کے جنگی طیاروں کے تازہ حملے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑے بارہ بجے کے بعد شروع ہوئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہرمیں مختلف مقامات پر چھ بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ پھر چند ہی منٹ بعد ایسے مزید کئی اور دھماکے بھی سنائی دیے۔

فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ حملے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لیبیا میں قذافی کی فوجوں کے خلاف اور عسکری حوالے سے اہم اہداف پر کیے جانے والے نیٹو کے شدید ترین حملے تھے۔ عینی شاہدین کے بقول طرابلس میں یہ فضائی حملے اور ان کے بعد ہونے والے دھماکے اتنے زیادہ تھے کہ ان کی ’گنتی مشکل ہو گئی‘ تھی۔ حکومتی ذرائع نے فوری طور پر ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

NO FLASH NATO Angriff Tripolis Libyen

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لیبیا میں قذافی کی فوجوں کے خلاف اور عسکری حوالے سے اہم اہداف پر کیے جانے والے نیٹو کے شدید ترین حملے تھے

اسی دوران لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن کی نشریات میں بتایا کہ باغیوں کے زیر کنٹرول شہر بن غازی میں ایک عدالت کی عمارت کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو بڑے دھماکے سنے گئے۔ دوسری طرف لیبیا میں باغیوں کی عبوری قومی سلامتی کے رہنما نے عرب ٹیلی وژن چینل العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اس شمالی افریقی ملک میں موجودہ لڑائی ’محض چند روز میں‘ ختم ہو جانے کی توقع ہے۔

باغیوں کی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا کہ قذافی کے مخالف باغی طرابلس پر قبضے کی تیاریاں کر رہے ہیں، جو ابھی تک معمر قذافی اور ان کے دستوں کے کنٹرول میں ہے۔

لیبیا میں قذافی انتظامیہ کو سیاسی طور پر کل بدھ کے روز ایک اور بڑا دھچکہ برداشت کرنا پڑا تھا۔ سرکاری انتظام میں کام کرنے والی نیشنل آئل کمپنی کے چیئرمین شکری غنیم نے اطالوی دارالحکومت روم پہنچنے کے بعد اعلان کیا کہ انہوں نے قذافی انتظامیہ کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ شکری غنیم کے مطابق ان کی ہمدردیاں اب قذافی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ وہ اب اُن باغیوں کے حامی ہیں، جو قذافی کے 41 سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے لیے اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی منظوری کے بعد مغربی دفاعی اتحاد نے قذافی کی فوجوں کے خلاف اپنے جس آپریشن کا آغاز کیا تھا، کل بدھ کے روز برسلز میں نیٹو کے سفیروں کی کونسل نے اس کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی تھی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس