1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس پر مکمل فتح، اگلا ہدف سرت ہے: باغی

لیبیا کے باغیوں نے طرابلس پر مکمل فتح پانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا اگلا ہدف قذافی کا آبائی علاقہ سرت ہے، جس کے کنٹرول کے لیے انہوں نے طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق باغی طرابلس کے متعدد علاقوں کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ اب ان کی توجہ سرت کی جانب مبذول ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ  قذافی نواز فورسز کے ساتھ سرت کے کنٹرول کے لیے مذاکرات ناکام ہوئے تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ سرت قذافی کا آبائی علاقہ ہے۔

باغیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے دارالحکومت طرابلس پر مکمل فتح پا لی ہے۔ باغیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قذافی کی فورسز کے آخری دستوں کو بھی طرابلس سے باہر دھکیل دیا گیا ہے اور شہر میں زندگی معمول کی جانب لوٹنا شروع ہو گئی ہے۔

دوسری جانب طرابلس میں پانی، بجلی اور خوراک کی عدم دستیابی کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ وہاں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اُدھر عرب لیگ نے کہا ہے کہ معمر قذافی اقتدار سے بے دخل ہو چکے ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک کو لیبیا کے منجمد اثاثے فوری طور پر بحال کر دینے چاہیئں۔

عرب لیگ کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اتوار کی صبح ہوا، جس میں انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اس عالمی ادارے میں لیبیا کی نشست قومی عبوری کونسل کو دے دی جائے۔ انہوں نے شام میں بھی خون ریزی کے خاتمے اور اصلاحات کے نفاذ پر زور دیا ہے۔

Buchvorstellung Das Amt

جرمنی کے سابق وزیر خارجہ یوشکا فِشر

لیبیا تنازعے میں جرمنی کا کردار

جرمنی کے سابق وزیر خارجہ یوشکا فِشر نے برلن حکومت کی جانب سے لیبیا کے تنازعے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کی ہے۔ جرمن میگزین ڈیرشپیگل کے ساتھ گفتگو میں فِشر نے کہا کہ جرمنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا میں کی جانے والی عسکری کارروائی کی قرارداد کے لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، جو غلطی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے عالمی امور پر جرمنی کے مؤقف کو بہت نقصان پہنچا۔ موجودہ وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اور چانسلر انگیلا میرکل کو قرار داد کے لیے ووٹنگ کے عمل میں شریک نہ ہونے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ویسٹر ویلے نے اخبار ویلٹ ام زونٹاگ سے بات چیت میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا ہے کہ نیٹو نے معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹانے میں مدد کی۔

 قبل ازیں چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ وہ اس پیش رفت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ انہوں نے اخبار بِلڈ ام زونٹاگ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ  لیبیا میں استحکام اور تمیر نو کے لیے کارروائیوں میں جرمن فوجیوں کی شمولیت خارج از امکان نہیں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس