1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس میں قذافی کے گھر پر باغیوں کا قبضہ

لیبیا پر گزشتہ 42 برس سے حکومت کرنے والے معمر قذافی کے گھر پر باغیوں نے شدید لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا اور اب دارالحکومت طرابلس کے متعدد علاقوں میں جشن کا سماں ہے۔

default

باغیوں کی جانب سے گزشتہ دو روز سے کئی اطراف سے کیے جانے والے حملوں کے بعد طرابلس کے متعدد علاقے ان کے قبضے میں آگئے تھے، تاہم منگل کے روز قذافی کی حامی افواج کے ٹھکانوں پر نیٹو فورسز کی فضائی کارروائیوں اور باغیوں کی مسلح پیشقدمی کے بعد سکیورٹی فورسز مکمل طور پر پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں۔ قذافی مخالف افراد نے فتح کے علامتی اظہار کے طور پر قذافی کے رہائشی کمپاؤنڈ میں نصب ان کا ایک مجمسہ توڑ دیا اور اس مجسمے کا سر علیٰحدہ کر کے اسے ٹھوکروں کا نشانہ بنایا۔

باغیوں کے مطابق معمر قذافی کی اس رہائش گاہ میں وہ یا ان کے اہل خانہ موجود نہیں تھے، تاہم قذافی کی تلاش میں ناکامی کے باوجود باغیوں کا جذبہ ٹھنڈا نہیں پڑا۔ اس رہائش گاہ ’باب العزیزیہ‘ پر قبضہ کرنے والے باغی کمانڈر عبد الحکیم بیلحاج نے کہا، ’ہم یہ جنگ جیت چکے ہیں اور معمر قذافی کے حامی چوہوں کی طرح بھاگ گئے ہیں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام قذافی نے اسی جگہ اپنے حامیوں کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ باغیوں کو پسپا کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ روز اپنے ایک ریڈیو پیغام میں معمر قذافی نے بھی باغیوں کی شکست کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے باغیوں کو ’چوہے‘ قرار دیتے ہوئے فرانس پر باغیوں کی مدد کا الزام عائد کیا تھا۔

NO FLASH Angriffe auf Gadaffi-Residenz

طرابلس میں اب بھی متعدد مقامات پر لڑائی جاری ہے

باغی کمانڈر بیلحاج نے کہا کہ معمر قذافی کی رہائش گاہ کا 90 فیصد حصہ مکمل طور پر محفوظ بنایا جا چکا ہے تاہم کچھ جگہوں پر انہیں ابھی مزاحمت درپیش ہے۔

منگل کی شام معمر قذافی کی حامی فورسز کی جانب سے داغے گئے پانچ مارٹر گولے اس کمپلیکس میں گرے۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے یہ بات واضح ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

معمر قذافی کی رہائش گاہ باب العزیزیہ میں لڑائی میں مصروف اکرام نامی ایک باغی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’آج فتح کے جشن کا دن ہے تاہم کل ہم پوری کوشش کریں گے کہ طرابلس کے ہوائی اڈے کی طرف جانے والی سڑک پر قبضہ کر لیا جائے۔ ان کے مطابق ابھی طرابلس میں قذافی کے حامی ضلع ابو سالم سے باغیوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، تاہم کل اس کا بھی گھیراؤ کر کے اسے زیرقبضہ کر لیا جائے گا۔

اکرام نے جوش سے کہا کہ یہ دنیا بھر کے تمام آمروں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے عہدوں سے الگ ہو جائیں اور عوام کو آزادی سے جینے دیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM