1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس میں قذافی کے حامیوں اور حکومتی افواج کے درمیان لڑائی

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں معمر قذافی کے حامیوں اور عبوری قومی کونسل کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ طرابلس پر قذافی مخالفین کے قبضے کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی لڑائی ہے۔

default

لیبیا کے نئے حکمرانوں کو ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔ سابق رہنما معمر قذافی کے حامیوں نے نئی حکومت کی فورسز پر حملہ کیا ہے۔ گو کہ ان حملہ آوروں کی تعداد محض چند درجن بتائی گئی ہے تاہم طرابلس کے قذافی مخالفین کے قبضے میں آنے کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے۔ خیال رہے کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد اگست کے مہینے میں طرابلس پر قذافی مخالفین نے قبضہ کر کے اب روپوش معمر قذافی کے بیالیس سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔

جمعے کے روز سینکڑوں کی تعداد میں عبوری کونسل کے سپاہی اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے نواحی قصبے ابو سلیم میں داخل ہو گئے جہاں قذافی کے حامیوں اور ان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

Flash-Galerie Vormarsch der Rebellen in Sirte

قومی عبوری کونسل کی افواج قذافی کے آبائی شہر سرت پر ہنوز مکمل قبضہ نہیں کر سکی ہیں

دریں اثناء قومی عبوری کونسل کی افواج قذافی کے آبائی شہر سرت پر ہنوز مکمل قبضہ نہیں کر سکی ہیں۔

عینی شاہدین نے طرابلس کی نئی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کے روز پچاس کے قریب مسلح افراد ابو سلیم نامی قصبے میں داخل ہوئے اور انہوں نے قذافی کے حق میں نعرے لگانا شروع کر دیے۔ عبوری کونسل کے اراکین کے مطابق بعض دیگر علاقوں میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ کونسل کے ایک مسلح کارکن عبداللہ کا کہنا تھا، ’’گزشتہ شب قذافی نے اپنے ایک نئے پیغام میں لوگوں کو بغاوت کرنے پر اکسایا تھا۔ اسی باعث اب چند لوگ باہر نکل کر مسائل پیدا کر رہے ہیں۔‘‘

طرابلس میں تازہ لڑائی کے دوران قذافی کے دو حامیوں اور عبوری کونسل کے ایک سپاہی کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ قومی عبوری کونسل کے مطابق نئی انتظامیہ نے طرابلس میں ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی تاحال روپوش ہیں اور عبوری کونسل ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے اس بات کا خدشہ ہے کہ لیبیا کے نئے حکمران قذافی حکومت کی طرح انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM