1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طرابلس حکومت کے نمائندوں کا دورہ ماسکو

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے مندوبین آج ماسکو میں روسی حکام کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ روس میں اسی نوعیت کی ملاقات لیبیا کے باغیوں سے بھی ہونے جا رہی تھی، جو مؤخر کر دی گئی ہے۔

default

روسی وزیر خارجہ سرگئی لافرروف

روسی وزیر خارجہ سرگئی لافرروف نے پیر کو ایک بیان میں کہا، ’ہم نے طرابلس اور بن غازی (باغیوں) کے نمائندوں سے ماسکو میں ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’طرابلس حکومت کے نمائندے کل (پیر کو) یہاں پہنچ رہے ہیں۔ بن غازی کے نمائندوں کی آمد بدھ کو طے تھی، لیکن جیسا کہ انہوں نے ہمیں مطلع کیا ہے، وہ یہ دورہ تکنیکی وجوہات کی بناء پر مؤخر کرنے پر مجبور ہیں۔‘

روسی وزیر خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ باغیوں کے رہنماؤں کا دورہ ماسکو کیوں مؤخر ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے مستقبل میں کسی وقت باغیوں کے ساتھ ملاقات کا عندیہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس ہر کسی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے لیبیا میں لڑائی روکنے کے لیے ماسکو حکومت کے مطالبے کا اعادہ بھی کیا۔ خیال رہے کہ روس باغیوں کو لیبیا کے قانونی نمائندے کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکار کر چکا ہے اور ابھی تک قذافی کے ساتھ باقاعدہ تعلق رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب منگل کی صبح طرابلس میں لیبیا کے ادارہ برائے انسداد بدعنوانی کے ہیڈکوارٹرز اور سکیورٹی سروسز کی عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بظاہر یہ عمارتیں نیٹو کے فضائی حملے کی زد میں آئی ہیں۔

Libyen Gaddafi Archiv 2009

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

یہ دونوں عمارتیں طرابلس کے الجمہوریہ ایوینیو پر واقع ہیں اور معمر قذافی کی رہائش گاہ سے قریب ہیں۔ وہاں پیر اور منگل کی درمیانی شب دو دھماکے سنے گئے۔ اے ایف پی کے مطابق علی الصبح تک فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

طرابلس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کچھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اے ایف پی کے مطابق طرابلس کے مختلف علاقوں میں نیٹو کے فضائی حملے تقریباﹰ ہر روز ہو رہے ہیں، جن کا آغاز اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد انیس مارچ کو ہوا تھا۔ یہ قرارداد لیبیا کے شہریوں کے تحفظ کے لیے منظور کی گئی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس