1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

طبی مراکز پر حملے، دو برسوں میں ایک ہزار ہلاکتیں

دو برسوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں طبی مراکز اور ہسپتالوں میں کیے گئے حملوں میں لگ بھگ ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 40 فیصد ہلاکتیں جنگ زدہ ملک شام میں ہوئیں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے لے کر دسمبر 2015ء تک کل انیس ممالک میں صحت کے مراکز پر پانچ سو چورانوے حملے ہوئے، جن میں نو سو انسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ حملے جنگ زدہ ملک شام میں کیے گئے۔

شام کے ہسپتالوں، مریضوں، میڈیکل ورکرز اور ایمبولنسوں پر کیے گئے حملوں میں تین سو باون افراد مارے گئے۔ پاکستان، لیبیا، عراق اور فلسطین وہ دیگر ممالک ہیں، جہاں پر بھی طبی مراکز پر حملے کیے گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بروس ایلواڑد کا کہنا ہے، ’’ ہیلتھ ورکرز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ حملے صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں ہیں۔‘‘ ڈاکٹر ایلورڈ نے یہ بھی کہا کہ ان حملوں میں کمی نہیں آ رہی اور ایسے علاقوں میں طبی عملے کو تعینات کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان حملوں میں سے 53 فیصد میں ریاستیں ملوث تھیں، تیس فیصد حملے مسلح گروہوں نے کیے جبکہ سترہ فیصد حملوں کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان میں کون ملوث تھا۔

Afghanistan US-Luftangriff - Ärzte ohne Grenzen Krankenhaus in Kundus

’ڈاکٹر ودِآؤٹ بارڈرز‘ کے ہسپتال پر امریکی فضائی حملے میں بیالیس افراد ہلاک اور سینتیس زخمی ہوئے تھے

گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان کے صوبے قندوز میں ’ڈاکٹر ودِآؤٹ بارڈرز‘ کے ہسپتال پر امریکی فضائی حملے میں بیالیس افراد ہلاک اور سینتیس زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے حوالے سے امریکی فوج کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ واقعہ جنگی جرم نہیں بلکہ انسانی غلطی کے باعث پیش آیا تھا تاہم ڈاکٹرز ودِ آؤٹ بارڈرز نے اس واقعہ کی آزدانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی مینجمنٹ کے ڈائریکٹر رک برینن نے اس حوالے سے روئٹرز کو بتایا،’’ جنگ کا ایک اہم ترین اصول یہ ہے کہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز، ہیلتھ ورکرز اور معذوروں پر حملے نہیں کیے جاتے لہذا ان ہسپتالوں پر کیے گئے حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور ان میں ملوث افراد کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں لے جایا جا سکتا ہے۔

DW.COM