1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

طبعیات کا نوبل انعام تجاذبی موجیں ثابت کرنے والوں کے نام

رواں برس کا نوبل انعام برائے طبعیات تجاذبی موجوں کی موجودگی ثابت کرنے والے تین سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ماہرین طبعیات رائنر وائس، بیری بارِش اور کِپ تھورن نے ان موجوں کا مشاہدہ کیا تھا۔

منگل کے روز نوبل انعام برائے طبعیات کا اعلان کرتے ہوئے اسٹاک ہوم میں رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے کہا گیا ہے، ’’اس نے بہت سی چھپی ہوئی دنیاؤں کے دروازے انسانوں پر وا کیے۔‘‘

فیوژَن، ستاروں کا درجہٴ حرارت زمین پر

نیوٹریِنوز کی کمیت دریافت کرنے والے سائنس دانوں کے لیے نوبل انعام

یورپی طبعیاتی تجربہ گاہ سَیرن کا سات گنا بڑی جوہری سرنگ بنانے کا پلان

نوبل انعام کے ساتھ نو ملین سویڈشن کرونے یا ایک اعشاریہ ایک ملین ڈالر کا نقد انعام بھی ان سائنس دانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

رائل سویڈش اکیڈمی کے بیان کے مطابق، ’’دریافتوں کے نئے در ہمارے منتظر ہیں، کیوں کہ ان موجوں کا مشاہدہ کر کے ہم نے ایک کائناتی پیغام وصول کر لیا ہے۔‘‘

سن 1915ء میں آئن اسٹائن نے اپنے نظریہ اضافیت میں ان موجوں کی ممکنہ موجودگی کا ذکر کیا تھا، تاہم ان کا مشاہدہ سو سال بعد سن 2015ء میں اس وقت ممکن ہوا، جب سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے لِیگو (لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹری) کے تحقیقی پراجیکٹ کے ذریعے ان موجوں کو ریکارڈ کر لیا۔

یہ مشاہدہ ایک اعشاریہ تین ارب نوری سالوں کے فاصلے پر دو بلیک ہولز کے ٹکرانے کی وجہ سے خلا میں پیدا ہونے والی زبردست تجاذبی موجوں کو اس خصوصی رصدگاہ کے ذریعے ریکارڈ کر کے کیا گیا۔ ایک اعشاریہ تین ارب نوری سالوں کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعے کے ظہور کے وقت روشنی کی رفتار سے چلنے والی ان موجوں کو زمین تک پہنچنے میں اتنا وقت لگا۔ واضح رہے کہ آئن اسٹائن کے نظریے کے مطابق کائنات میں کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتی۔

پیر کے روز نوبل انعام برائے طب کا اعلان کیا گیا تھا، جو امریکی سائنس دانوں جیفری ہال، مائیکل روسباش اور مائیکل ینگ کو دیا گیا تھا۔ انہیں یہ انعام انسانی جسم میں حیاتیاتی گھڑی (بائیولوجیکل کلاک) کے سرگرمیوں اور اثرات پر تحقیق اور اس کے افعال کی وضاحت پر دیا گیا تھا۔

DW.COM