1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والوں کی بازیابی کے لیے سر توڑ کوششیں

پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کی افغانستان میں ہنگامی لینڈنگ اور اس کے عملے کو یرغمال بنائے جانے کی خبر نے پاکستان کے سیاسی و عسکری حلقوں کو تشویش دو چار کردیا ہے۔

اس ہیلی کاپٹر نے جمعرات چار اگست کو افغانستان کے صوبہ لوگر میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی، جہاں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، افغان طالبان نے اس کو جلادیا اور اس کے عملے کو یرغمال بنالیا۔ تاہم پاکستان کے سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس ہیلی کاپڑ کے جلائے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبون کو طالبان ذرائع نے یہ بتایا کہ عملے کے ارکان جس میں ایک روسی بھی شامل ہے طالبان کی تحویل میں ہیں۔ اخبار نے طالبان ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور یہ کہ ان کے بارے میں فیصلہ طالبان کی قیادت کرے گی۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اس حوالے سے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے، ’’آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغانستان میں متعین Resolute Support Mission کے کمانڈر جنرل نکلسن سے فون پر رابطہ کیا اور عملے کی بازیابی کے حوالے سے مدد کی درخواست کی۔ جنرل نکلسن نے آرمی چیف کواس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔‘‘ جنرل باجوہ کے مطابق آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی سے بھے رابطہ کر کے عملے کی محفوظ واپسی کے حوالے سے بات چیت کی، جس پر افغان صدر نے انہیں اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔


پاکستانی وفاقی حکومت اس سلسلے میں ایک اعلٰی سطحی وفد افغانستا ن بھیج رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے عملے کے کچھ ارکان کے گھر پر جا کر انہیں حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا اور باحفاظت واپسی کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستانی آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی سے بھے رابطہ کر کے عملے کی محفوظ واپسی کے حوالے سے بات چیت کی، جس پر افغان صدر نے انہیں اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی

پاکستانی آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی سے بھے رابطہ کر کے عملے کی محفوظ واپسی کے حوالے سے بات چیت کی، جس پر افغان صدر نے انہیں اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی


لیکن ابھی تک ان یقین دہانیوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ مسلم لیگ نون کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم ابھی تک کسی اچھی خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔ آرمی چیف اور وزیرِ اعظم نے افغان حکومت سے بات چیت کی ہے۔ افغان صدر نے بھی اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ عملے کی محفوظ واپسی یقینی بنائیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ سات ارکان، جن میں ایک روسی اور چھ پاکستانی ہیں، وہ طالبان کی تحویل میں ہیں۔ طالبان کہتے ہیں کہ ان کی قیادت یرغمالیوں کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ ہماری ساری دعائیں یرغمالیوں کے گھر والوں کے ساتھ ہیں اور اللہ سے امید ہے کہ وہ بحفاظت واپس آئیں گے۔‘‘

طالبان کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کی خبر نے پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں کو حیران کردیا ہے۔ کئی تجزیہ نگاروں کے لیے بھی یہ بات حیرت کا باعث ہے کیونکہ افغان طالبان کو پاکستان کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’کسی دور میں پاکستان کا افغان طالبان پر کافی اثر ورسوخ تھا۔ اب وہ عسکریت پسند گروہ بھی انتشار کا شکا ر ہے اور ان میں کئی دھڑے بن چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے ہیلی کاپٹر میں جانے والے پاکستانیوں کو یرغمال بنایا ہے، ان کا تعلق ملا ہیبت اللہ سے نہیں ہے۔ بہرحال یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور کابل حکومت کو پاکستانی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہیے کیونکہ ان کے مسئلے ہمارے بغیر حل نہیں ہوسکتے اور ہمارے مسئلے ان کے بغیرحل نہیں ہوسکتے۔‘‘