1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

طالبان کے گڑھ سے سکواش کے کورٹ تک

جنوبی وزیرستان ان دنوں شدت پسندی کے خلاف جاری آپریشن میں میدان کارزار بنا ہوا ہے مگر سنگلاخ چٹانوں والی اس دھرتی کی ایک بیٹی نے سکواش کورٹ میں اترکر دُنیا کی توجہ تصویر کے دوسرے رخ کی جانب مبذول کروائی ہے۔

default

وانا سے تعلق رکھنے والی ماریہ طور کو عالمی سکواش فیڈریشن WSF نے سال کی بہترین جواں سال کھلاڑی کے ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ہے۔ ماریہ کو یہ خوشخبری ان کی 19ویں سالگرہ سے صرف دو دن پہلے پشاور میں ملی، جہاں وہ گزشتہ دس برسوں سے اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہیں۔

ماریہ کی پاکستانی سکواش کے اُفق پر آمد شاندار انداز میں سن 2004 میں اس وقت ہوئی جب اس نے ریکارڈ 13برس کی عمر میں قومی چیمپیئن بننے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔ سن2007 ء میں وہ اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی خواتین سکواش چمپیئن شپ میں ’رنر اپ‘ رہیں جبکہ امسال انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف ٹورنامنٹ میں فتح کے ساتھ ایک اور اہم اعزاز اپنے نام کیا۔ اس طرح ماریہ نے دنیا کی 100سرکردہ خواتین کھلاڑیوں میں جگہ بھی بنالی۔

11.05.2006 emx quiz A squash

ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے کھلاڑی سکواش کے کورٹ پر راج کیا کرتے تھے

ڈوئچے ویلے اُردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ماریہ طور نے کہا کہ ’بیسٹ ینگ پلیئر آف دی یئر‘ کے لئے نامزدگی نا صرف ان کے لئے بلکہ تمام پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کے لئے اچھی خبر ہے کیونکہ اب بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شرکت کے مواقع ملنے کےساتھ ساتھ خواتین کی پزیرائی بھی ہونا شروع ہوگئی ہے۔

ماریہ نے بتایا کہ وہ ویٹ لفٹر بننا چاہتی تھیں مگرحادثاتی طور پر سکواش کی دنیا میں آگئیں۔ ماریہ کا مزید کہنا تھا کہ اُن کے والد ان کے جارحانہ رویے اور صحت مند ہونے کے باعث انہیں ویٹ لفٹر بنانے کے خواہش مند تھے۔’’اسی مقصد کے لئے وہ مجھے وانا سے پشاور لے آئے تاہم پاکستان میں خواتین کا ویٹ لفٹنگ میں رجحان نہ ہونے کے برابر دیکھ کر انہوں نے مجھے سکواش کا ریکٹ تھما دیا۔ پہلی بارانڈر13 کا ایونٹ جیتا اور پھر اسکے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘‘

لاکھوں میں ایک ہوں: ماریہ طور

ماریہ کا کہنا تھا کہ وہ قبائلی علاقے کی اولین خاتون ایتھلیٹ ہیں اسلئے انہیں قدم قدم پر روایتی خاندانی سوچ اور دیگر قدامت پسندوں کی تنقید اور مخالفت کا سامنا رہا ہے۔’’مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔‘‘ ماریہ نے بتایا کہ ان کا تعلق وزیر قبیلے سے ہے، جس میں مرد تو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں مگر لڑکیوں کو کھیل تو دور کی بات، تعلیم حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں۔’’اسلئے میں لاکھوں میں ایک ہوں۔ میرے کھیل میں آنے کے بعد لوگوں نے میرے باپ کو طعنے بھی دئے۔ یہاں تک کہ میرے والدین کو بعض شدت پسندوں کی طرف سے ٹیلی فون پر دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں کہ اپنی بیٹی کو سکواش چھڑوادو تاہم انہوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔ سپورٹس کے ساتھ ساتھ میری تعلیم بھی جاری ہے۔‘‘

ماریہ نے مزید بتایا کہ آئے روز کے بم دھماکوں اور بد امنی سے جہاں انکا دل دکھی ہے، وہیں ان کا کھیل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطرے کی اطلاع ملنے پر وہ پریکٹس کے لئے اکثر گھر سے قدم بھی باہر نہیں رکھ سکتی جبکہ ’’یہ سب کچھ غیر ملکی کر رہے ہیں کیونکہ پاکستانی لوگ ایسے نہیں ہیں۔‘‘

سکواش کی دنیا کے عہد ساز کھلاڑیوں جہانگیر خان اور جان شیر کا تعلق بھی صوبہ سرحد سے ہی ہے، اس لئے ماریہ طور بھی انہی کی طرح عظیم کامیابیوں کی متمنی ہیں۔’’جہانگیر اور جان شیر لیجنڈ ہیں۔ میں انکے میچز کی ویڈیو فلمیں دیکھ کر بہت کچھ سیکھ رہی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں بھی انہی کی طرح پاکستان کے لئے عظیم کارنامے سر انجام دوں اور ریکارڈز قائم کروں۔‘‘

سال کے جواں سال کھلاڑیوں میں نامزد ہونے والوں میں ماریہ طور کے علاوہ پاکستان کے اُبھرتے ہوئے کھلاڑی عامر اطلس خان بھی شامل ہیں، جنہوں نے چند روز پہلے قطر اوپن میں عالمی نمبر ایک فرانس کے گریگوری گالٹر کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا ہے۔

دریں اثناء ورلڈ سکواش ایوارڈز کی تقریب اٹھائیس نومبر کو لندن میں منعقد ہو گی۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: گوہر نذیر گیلانی