1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے نئے لیڈر کی حمایت نہیں کرتے، ملا عمر کے اہل خانہ

طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کے انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ طالبان کے نئے امیر کو ان کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ان کے مطابق وہ ایسا سربراہ چاہتے ہیں، جس کو اسلامی علماء اور تحریک کے تمام بڑے کمانڈر منتخب کریں۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کے چھوٹے بھائی عبدالمنان کی طرف سے ایک نیا آڈیو بیان جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق انہوں نے طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر محمد منصور کی ’’بیعت‘‘ یا حمایت نہیں کی ہے۔ تاہم عبدالمنان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اختلافات سے بچنے کے لیے کوئی نیا نام بھی سامنے نہیں لانا چاہتے۔ اتوار کے روز منظر عام پر آنے والے اس آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے، ’’ ملا عمر نے اپنی تمام زندگی مجاہدین کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘‘

قبل ازیں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کے روز ملا عمر کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ملا منصور کو طالبان کو نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ تاہم خبروں کے مطابق ملا منصور کو اپنی ہی صفوں میں مخالفت کا سامنا تھا۔ طالبان کے تین مختلف کمانڈروں نے بتایا ہے کہ نیا امیر منتخب کرنے کے لیے پاکستان کے شہر کوئٹہ میں طالبان شوریٰ یا کونسل کا اجلاس ہوا تو نئے سربراہ کی تقرری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد طالبان کمانڈر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جن طالبان کمانڈروں نے ان اختلافات کے بارے میں خبریں فراہم کی ہیں، وہ خود بھی وہاں موجود تھے۔

اس اجلاس میں، جن طالبان کمانڈروں نے نئے سربراہ ملا منصور کی حمایت نہیں کی تھی، ان میں ملا عمر کے چھوٹی بھائی عبدالمنان اور ملا عمر کے بیٹا یعقوب بھی شامل تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملا عمر کے انتقال کے بعد طالبان کی صفوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور اسی وجہ سے طالبان کے نئے سربراہ نے اپنے سب سے پہلے آڈیو بیان میں اتحاد کی اپیل کی ہے۔ مبصرین کے مطابق ابھی معمولی نظر آنے والے یہ اختلافات مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق آڈیو پیغام میں ملا عمر کے اہل خانہ کی طرف سے براہ راست ملا منصور کا نام تو نہیں لیا گیا ہے لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ طالبان کے نئے لیڈر کو آئندہ دنوں میں اپنی ہی صفوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بیان کے مطابق، ’’نئے لیڈر کا انتخاب مشہور اسلامی علماء اور اُن طالبان لیڈروں کی سفارشات پر کیا جانا چاہیے، جنہوں نے افغانستان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘ دوسری جانب طالبان کی جانب سے اس نئے آڈیو بیان سے متعلق ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا طالبان کے مختلف دھڑوں کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کی کوئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔