1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے ساتھ مذاکرات کا نادر موقع نہ گنوائیں، جرمنی

جرمنی کے وزیر خارجہ نے اپنے دورہ کابل کے دوران کہا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کا ’واحد مناسب طریقہ‘ طالبان اور حکومت کے مابین مفاہمت اور مذاکرات کا ہے۔

آج بروز اتوار افغان دارالحکومت کابل پہنچنے کے بعد جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کا افغان حکومت پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ملک میں طویل جنگ کے خاتمے کا ایک ہی ’مناسب طریقہ‘ ہے اور وہ ہے طالبان سے مفاہمت کا، ’’ امن مذاکرات کے ذریعے جو نادر موقع ہاتھ آیا ہے، اسے گنوایا نہیں جانا چاہیے۔‘‘

جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’ہمارا مقصد بہت واضح ہے۔ افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ افغانستان کو فوری طور پر اصلاحات کا آغاز کر دینا چاہیے۔‘‘ جرمن وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر کابل حکومت کو یقین دلایا ہے کہ نو ماہ پہلے یورپی یونین کے لڑاکا فوجیوں کی واپسی کے باوجود ان کا ملک افغانستان کی مدد جاری رکھے گا۔ یاد رہے کہ جرمنی افغانستان کو امداد فراہم کرنے والی تیسرا بڑا ملک ہے۔ سن دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لے کر اب تک جرمنی افغانستان کو چار ارب یورو سے زائد (ساڑھے چار ارب ڈالر) فراہم کر چکا ہے۔

اس دوران شٹائن مائر نے افغانستان میں تعینات تقریباﹰ آٹھ سو جرمن فوجیوں سے بھی ملاقات کی۔ یہ جرمن فوجی براہ راست لڑائی میں حصہ لینے کی بجائے صرف مشیر کے حثییت سے کام کر رہے ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ نے افغانستان اور پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مل کر کام کریں، ’’ دونوں ملکوں کے مابین تشدد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی بنیاد پر ایک معاہدہ ہونا چاہیے اور یہی معاہدہ خطے کی ترقی اور استحکام میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘

جرمن وزیر خارجہ آج اتوار ہی کے روز اسلام آباد کا بھی دورہ کریں گے لیکن اس دورے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ سکیورٹی کی وجہ سے جرمن وزیر خارجہ کے دورہ کابل کو بھی خفیہ رکھا گیا تھا۔

شٹائن مائر کے دورہ افغانستان کا ایک مقصد اس تقریب میں بھی حصہ لینا تھا، جس کا انقعاد جرمنی اور افغانستان کے مابین دوستانہ تعلقات کے ایک سو سال پورے ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ یہ تقریب آج قبل از دوپہر صدارتی محل میں ہوئی۔ جرمنی اور افغانستان کے مابین دوستانہ خارجہ تعلقات کی بنیاد سن انیس سو چودہ اور انیس سو پندرہ میں رکھی گئی تھی۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مثبت رہے ہیں۔