1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے، صدر کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ جلد مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے امن کی پیشکش کو کمزوری سمجھا گیا ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی، پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ترک صدر عبداللہ گل

ترکی میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے دوران افغان صدر حامد کرزئی نے کہا، ’’ہم خود کش بمباروں سے بات کرتے نہیں رہ سکتے۔ اسی لیے ہم نے طالبان سے مذاکرات منقطع کردیے تھے۔ ہم دوبارہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گے جب تک کہ ہمیں طالبان کا پتہ نہیں مل جاتا۔ اس وقت تک ہم اس مسئلے کے حل کے لیے اپنے پڑوسی برادر ملک پاکستان سے بات کریں گے۔‘‘

حامد کرزئی کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے طالبان کے بعض حلقوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی مدد کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ وہ طالبان کی مبینہ سر پرستی بند کرے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرے۔ ترکی کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے صدور کے درمیان ملاقات کو انہیں کوششوں کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Afghanistan Staatsbegräbnis für Ex-Präsident Rabbani in Kabul NO FLASH

سابق افغان صدر ربانی کے قتل کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا

خیال رہے کہ ستمبر کے مہینے میں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد افغان حکومت کی طالبان سے مذاکرات کی کوششوں کو زبردست دھچکہ لگا تھا۔ ربانی نہ صرف سابق افغان صدر تھے بلکہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

ربانی کے قتل کے بعد افغانستان اور پاکستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے۔ افغان حکومت نے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ربانی کے قاتل کی پشت پناہی کر رہی تھی۔ امریکہ اور افغانستان پاکستان پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ وہ عسکری گروہ حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ترکی میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM