1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے ساتھ جھڑپ، پاکستانی لیفٹیننٹ کرنل ہلاک

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں لیفٹیننٹ کرنل فیصل ملک بھی شامل ہیں۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ جھڑپ میں ان کے دو فوجی مارے گئے ہیں جبکہ اس کارروائی میں لیفٹیننٹ کرنل فیصل ملک بھی مارے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج نے افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کے شوال ایریا میں ہونے والی اس جھڑپ میں چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب ایک روز قبل ہی قبائلی علاقے خیبر میں افغانستان کے سرحد سے عسکریت پسندوں نے راکٹ داغے تھے اور ان کی زد میں آ کر چار فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ گزشتہ روز پاکستانی فوج کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان سے دہشت گردوں نے اخوند والا چیک پوسٹ پر راکٹ داغ کر کم از کم چار پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس راکٹ حملے میں چار دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اخوند والا چیک پوسٹ آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر قائم کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج نے رواں برس مئی میں ہی شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی تاہم چند روز پہلے پاکستانی فوج نے ان علاقوں کے اندر گھس کر زمینی کارروائی کرنے کا علان کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ شوال کے علاقے میں نہ صرف طالبان کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں بلکہ یہ علاقہ ہمسایہ ملک افغانستان میں اسمگلنگ کا مرکزی راستہ بھی ہے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے اس زمینی کارروائی سے پہلے کئی روز لگاتار فضائی بمباری بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہوئی۔ جس علاقے میں پاکستانی فوج یہ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے، وہاں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ دوسری جانب پاکستانی طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے کہا تھا کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ پاکستانی فوج علاقے میں ان کے ٹھکانوں سے متعلق لا علم ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق شوال کی مقامی آبادی اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار کی راہیں تلاش کر رہی ہے۔ اسی علاقے کے ایک رہائشی شامل خان کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’چند دنوں سے علاقے میں شدید بمباری ہو رہی ہے اور میں اپنے بچوں کے بارے میں پریشان ہوں۔‘‘

پاکستانی فوج نے گزشتہ برس آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے مقامی آبادی کو وہاں سے نکل جانے کو کہا تھا لیکن شوال کے رہائشیوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ شمالی وزیرستان کے زیادہ تر علاقے فوج کے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔