1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے دو متحارب گروپوں میں تصادم، 18 افراد ہلاک

افغان سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقے میں طالبان کے دو متحارب گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ مسلح تصادم ہفتے کو علی الصبح شروع ہوا۔

default

حکام کے مطابق یہ مسلح تصادم اورکزئی ایجنسی میں ہوا جہاں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے حال ہی میں آپریشن کیا گیا ہے۔ مقامی حکومت کے ایک اہلکار محبوب خان کے مطابق تصادم کے دوران رائفلز کے ساتھ ساتھ توپوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان کے دو گروپوں کے درمیان یہ مسلح تصادم ہفتے کو علی الصبح ہوا، ’’ہماری اطلاعات کے مطابق دونوں اطراف کے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘

دوسری طرف پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی میں ریڈ کراس تنظیم کے دفتر کے باہر ایک ناکام بم حملہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق کراچی کے مصروف علاقے بہادر آباد میں ہونے والے اس ناکام دھماکے میں دو موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا۔

ریڈکراس کے دفتر کے باہر مقامی طور پر تیار کیے جانے والے بم کا ڈیٹونیٹر دھماکے سے پھٹ گیا: کراچی پولیس

ریڈکراس کے دفتر کے باہر مقامی طور پر تیار کیے جانے والے بم کا ڈیٹونیٹر دھماکے سے پھٹ گیا: کراچی پولیس

کراچی پولیس کے ایک سینئر افسر عمر خطاب نے صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی تنظیم ریڈکراس کے دفتر کے باہر مقامی طور پر تیار کیے جانے والے بم کا ڈیٹونیٹر دھماکے سے پھٹ گیا تاہم اس کے باعث دھماکہ نہ ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

سندھ کی صوبائی حکومت کی وزارت داخلہ کے ترجمان شرف الدین میمن نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ابھی تک اس دہشت گردانہ کوشش کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔

کراچی میں گزشتہ ماہ پاکستان نیوی کے ایک اڈے پر دہشت گردانہ حملے میں 10 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے، جبکہ دہشت گردوں نے سمندری نگرانی کے لیے استعمال کیے جانے والے دو امریکی ساختہ بیش قیمت جہازوں کو بھی تباہ کردیا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس