طالبان کے خلاف اضافی فوج کی ضرورت ہے: ہلمند صوبے کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 20.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے خلاف اضافی فوج کی ضرورت ہے: ہلمند صوبے کا مطالبہ

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف اضافی فوج کی اشد ضرورت ہے۔ یہ مطالبہ ہلمند پولیس کے سربراہ نے کیا ہے۔

default

ہلمند صوبے میں تعینات افغان فوجیوں کے لیے غیر ملکی فوجی بھی موجود ہیں

جنوبی صوبے ہلمند کی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرحمان سرجنگ نے صوبائی صدر مقام لشکرگاہ میں بیان دیتے ہوئے کابل حکومت سے کہا ہے کہ صوبے میں عسکریت پسندوں کو نکیل ڈالنے کے لیے اضافی فوجی نفری کی اشد ضرورت ہے۔ اِس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں اِسی جنوبی صوبے ہلمند کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے اِس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اُن کے صوبے کی سکیورٹی کمزور سے کمزور تر ہو رہی ہے اور ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہ صوبہ طالبان عسکریت پسندوں کے قبضے میں جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ہلمند حکومتی کنٹرول سے نکل کر طالبان کے قبضے میں چلا جاتا ہے تو یہ کابل حکومت کے دعووں کی قلعی کھول دے گا کہ اُس کی فوجیں اب عسکریت پسندی کا تنہا مقابلہ کر رہی ہیں۔

جنرل عبدالرحمان سرجنگ کا کہنا ہے کہ ہلمند صوبے میں حکومتی سکیورٹی اہلکاروں کو عسکریت پسندوں کی مسلسل مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں سنگین چیلنجز لاحق ہو گئے ہیں۔ کابل میں غنی حکومت کے اہلکار نے اِس کی تصدیق کی ہے کہ ہلمند صوبے کی جانب سے فوج کی اضافی نفری کا مطالبہ پیش کیا گیا ہے۔ سرجنگ نے صوبائی درالحکومت میں کہا کہ اُن کے اہلکار طالبان کے گزشتہ دو ماہ سے مختلف مقامات پر تسلسل سے کیے جانے والے حملوں سے بیزار اور اکتا چکے ہیں۔

Karte Afghanistan Provinz Helmand Deutsch

طالبان کے حملوں سے اسٹریٹیجک نوعیت کے صوبے ہلمند کی سکیورٹی میں دراڑیں پیدا ہونے لگی ہیں

صوبائی پولیس کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ایسے حالات میں تازہ پولیس اور فوج کے دستوں کی ضرورت ہے کیونکہ پہلے سے موجود سکیورٹی اہلکار تھکنے لگے ہیں۔ مبصرین کے مطابق طالبان کے خلاف افغان پولیس کو محدود ہتھیاروں کے ساتھ اگلے محاذ پر جا کر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب بارودی مواد ختم ہو جاتا ہے تو اُن کے پاس پسپائی یا موت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچتا، اُن کے لیے ہتھیاروں کی باقاعدہ سپلائی اور فوج کی کمک جنگی حکمت عملی کے مطابق نہایت ضروری ہو چکی ہے۔ سنگین اور موسیٰ قلعہ پر طالبان شدت پسند نہایت قوت سے حملہ کر چکے ہیں۔

جنرل عبدالرحمان سرجنگ نے اِس کی تصدیق کی ہے کہ وہ کابل میں اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ فوج اور پولیس کے تازوہ دم دستے جلد ہی روانہ کر دیے جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے ہلمند صوبے کے کم از کم سات مقامات پر مقامی سکیورٹی کو کسی حد تک دیوار سے لگا دیا ہے۔ ہلمند صوبے کے سنگین، گریشک، خانشین، موسیٰ قلعہ، نوازاد، واشیر اور مرجاح کے علاوہ صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کے تین علاقے عسکریت پسندوں کی زد میں ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق طالبان کے حملوں سے اسٹریٹیجک نوعیت کے صوبے ہلمند کی سکیورٹی میں دراڑیں پیدا ہونے لگی ہیں۔