1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کے حملے میں افغان فوج کا ایک اور جنرل مارا گیا

افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں ملکی فوج کا ایک اور جنرل مارا گیا ہے۔ جنرل خان آغا پر حملہ قندھار میں کیا گیا۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی طالبان کے ایک بم دھماکے میں ایک فوجی جرنیل مارا گیا تھا۔

افغان دارالحکومت کابل سے جمعہ پچیس مارچ کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں ایک اعلیٰ اہلکار نے آج بتایا کہ جنرل خان آغا کو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب طالبان کے دو مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

قندھار میں صوبائی گورنر کے ترجمان صمیم خپلواک نے بتایا، ’’ضلع داند میں جنرل خان آغا پر حملہ طالبان کے دو مسلح جنگجوؤں نے کیا۔ انہوں نے جنرل خان آغاز پر اس وقت اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جب وہ ایک مقامی مسجد سے واپس اپنے گھر جا رہے تھے۔‘‘ صوبائی گورنر کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ جنرل خان آغا کے ساتھ ان کا ایک سترہ سالہ بیٹا بھی تھا، جو اس حملے میں شدید زخمی ہو گیا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ کابل حکومت اور اس کی حلیف اتحادی فورسز کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے والی طالبان تحریک کے ایک ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ قندھار میں جنرل خان آغا کو اسی مزاحمتی تحریک نے نشانہ بنایا۔ طالبان کے ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنرل خان آغا کے ساتھ اس حملے میں متعدد دیگر افراد بھی مارے گئے۔ جنرل خان آغا قندھار میں افغان فوج کی 205 ویں کور کا نائب کمانڈر تھا۔

قندھار کے گورنر کے ترجمان کے مطابق جب اس آرمی جنرل پر حملہ کیا گیا تو کئی دیگر افراد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حملہ آوروں کی کارروائی کے ساتھ ہی اس فوجی جرنیل کے محافظوں کا عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ صمیم خپلواک نے کہا، ’’دونوں حملہ آوروں کو خان آغا کے مسلح محافظوں نے موقع پر ہی گولی مار دی۔‘‘

ڈی پی اے نے افغان نیوز ویب سائٹ ’خامہ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ افغانستان میں کسی فوجی جنرل کی طالبان کے کسی حملے میں ہلاکت کا حال ہی میں پیش آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل فروری کے شروع میں بھی ایک افغان جنرل طالبان کے ایک حملے میں مارا گیا تھا۔ اس آرمی جنرل کا نام عطامیر آغا تھا اور وہ صوبے ہلمند میں طالبان شدت پسندوں کے نصب کردہ ایک بم کے دھماکے میں ہلاک ہوا تھا۔

افغانستان میں گزشتہ برس طالبان عسکریت پسندوں کے حملوں یا ان کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں مجموعی طور پر سات ہزار سے زائد مقامی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی پانچ ہزار سے زائد رہی تھی۔

DW.COM