1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

طالبان کے بعد بھی افغان خواتین کے زخم بھرے نہیں

خواتین کے حقوق کے لئے انقلابی جدوجہد میں مصروف تنظیم ’راوا‘ کئی دہائیوں سے افغان خواتین کے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے۔ اس ایسوسی ایشن نے افغانستان میں سرگرم عالمی برادری کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

default

راوا کی ایک ترجمان نے بین الاقوامی برادری کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ افغانستان آزاد نہیں ہوا ہے اوروہاں کی خواتین کو آزادی اورحقوق دلوانے کے بارے میں عالمی برادری کی جانب سے کئے جانے والے وعدے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔

راوا سے منسلک خواتین افغانستان میں اپنے حقوق کی جنگ 1977 میں تنظیم کے قیام میں آنے کے بعد سے لڑ رہی ہیں۔ اس جدوجہد نے طالبان دورمیں شدت اختیار کر لی جب افغان عورتوں کو دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ تعلیم کے حصول اور معاشرے میں آزادی سے نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

2001 میں امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے افغانستان پر حملے اور اسے فوجی قبضے میں لینے کے اہم ترین مقاصد میں ایک افغان خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دلوانا بھی بتایا جاتا تھا۔ عالمی برادری کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغان عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق مہیا کئے جائیں گے۔ تاہم RAWA-RevolutionaryAssociation of Women in Afghanistan نے اس بارے میں سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس انجمن سے منسلک ایک 27 سالہ افغان خاتون سارہ کا کہنا ہے کہ امریکی حملے اور اتحادیوں کے قبضے کے بعد افغانستان کے سرکاری قوانین میں خواتین کے حقوق سے متعلق اہم قانون سازی کی گئی تاہم یہ ویسی ہی لاحاصل ثابت ہوئی جیسے کے ماضی کے قوانین تھے۔

Afghanistan Frauen kaufen Gold im Bazar

وہ کہتی ہیں:’’عالمی میڈیا کے ذریعے افغانستان کی خواتین کی جو تصویر کشی کی جا رہی ہے، وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ اب بھی اس ملک میں خواتین کو بہت زیادہ دبا کر رکھا جا رہا ہے۔ تحریک طالبان، وارلاڈزیا جنگی سردار، جہادی لیڈر، اسلامی انتہا پسندوں کی تحریک گویا خواتین ہر طرف سے کچلی جا رہی ہیں۔ عورتوں کو ان کے گھروں کی دہلیز سے دن دیہاڑے اغواء کر لیا جاتا ہے۔ وارلاڈز کے ساتھ ان کی جبری شادی کردی جاتی ہے۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے مردوں کے گروہ کم عمربچیوں سے لے کر دادی نانی کی عمر کی عورتوں کو نہیں بخشتے۔ افغانستان میں اگرچہ کئی اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں لیکن سلامتی کی ابتر صورتحال کے سبب بہت سی بچیاں خوف زدہ ہوکر اسکول جانے کی ہمت نہیں کرتیں اوروالدین بھی بچیوں کو گھر کے اندر ہی رکھنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت افغانستان میں اسکول کی لازمی تعلیم والی عمر کے بچوں کی کل تعداد کا محض نصف حصہ اسکول جاتا ہے۔ ان میں ہر تیسری طالب علم ایک لڑکی ہے۔ اس اعتبارسے لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کی صورتحال میں کسی حد تک بہتری نظر آتی ہے۔ تاہم اب بھی لڑکوں اورلڑکیوں کو فراہم تعلیمی مواقع، زمین آسمان کے فرق کے حامل ہیں۔

سارہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کو محض سرکاری سطح پر امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ نجی زندگی میں انہیں مردوں کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ باپ، بھائی یا شوہر ہررشتے کی طرف سے عورت کو جبروتشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سارہ کہتی ہیں:’’کابل حکومت کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد محض گھریلو یا نجی سطح پر ہوتا ہے۔ تاہم RAWA کی سرگرم خواتین کو اس کا یقین ہے کہ عورتیں کے ساتھ ان کے گھروں میں ہونے والے تشدد کا تعلق بہت زیادہ افغانستان کی سیاسی صورتحال سے ہے۔ حکومت نے اب تک عورتوں کو زدوکوب کرنے والے مردوں کے خلاف کوئی قانون وضح نہیں کیا ہے۔ نہ ہی قدامت پسند روایات کے خلاف سرکاری سطح پر کوئی قدم اٹھایا گیا ہے۔ پولیس اوردیگرحکومتی اہلکارعورتوں کو جنسی تشدد بنانے والے اور دیگر جرائم میں ملوث مردوں کے ساتھ کوئی سختی نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں گھریلو تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مردوں کی ہمت افزائی کی جاتی ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ عورتوں کے ساتھ ہر طرح کی زیادتی کے باوجود انہیں نہ سزا ہوتی ہے نہ ہی ان پر کوئی قدغن لگائی جاتی ہے۔ وہ سب دندناتے پھر رہے ہیں۔‘‘

Straße in Kabul mit Karsai Bild

RAWA کے مطابق حال ہی میں ایک 14 سالہ لڑکی کو تین مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان میں سے ایک افغانستان کی موجودہ پارلیمان کے ایک رکن کا بیٹا ہے۔ صدر حامد کرزئی نے تینوں مردوں کو معافی دے دی۔ راوا کی سرگرم کارکن سارہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی استثنیٰ نہیں۔ وہ کہتی ہیں:’’مسئلہ یہ ہے کہ حکام یا اتھارٹی ملزمان کو معافی دے دیتے ہیں اور اس معافی کی وجہ تک بتانے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہمارا ماننا ہے کہ صدر کرزئی نہ صرف انتہاپسندوں کے آگے مجبور ہیں بلکہ ان کے پاس کوئی پاورنہیں۔ ایسے میں عورتوں کے اندر مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ افغانستان میں خواتین کی خود کشی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت خواتین کی اموات کی شرح تمام دنیا کے مقابلے میں افغانستان میں سب سے زیادہ ہے۔ نوجوان لڑکیاں آئے دن خود کو نظر آتش کرکے اپنی زندگی ختم کر لیتی ہیں کیونکہ انہیں مستقبل میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔‘‘

RAWA افغانستان میں جمہوری تحریک کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم اس چھوٹی سی NGO کا مقابلہ بڑی بڑی طاقتوں، دولت مند اوراسلحہ رکھنے والوں سے ہے۔ اس تنظیم نے افغانستان میں موجود اتحادی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ راوا کی سرگرم خواتین کا ماننا ہے کہ غیر ملکی فورسز کی موجودگی ان کے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ باراک اوباما کے صدرمنتخب ہونے پر تمام دنیا میں خوشیاں منائی گئیں لیکن راوا سے منسلک خواتین کے لئے یہ لمحات خوش آئند نہیں تھے۔ اس بارے میں سارہ کا کہنا ہے:’’ہم کسی خوش امیدی میں مبتلا نہیں ہیں۔ اوباما نے صدر بنتے ہی افغانستان سے متعلق اپنے پہلے بیان میں امن کی نہیں جنگ کی بات کی تھی۔ وہ ہمارے ملک میں اپنے مزید فوجی تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کے یہ افغانستان کے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ اپنی افغانستان پالیسی مکمل طور پر تبدیل کرے۔ امریکہ کو ایک انتہا پسند گروپ سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے شدت پسند گروپ کے مرہون منت نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ کو افغانستان کے جمہوریت پسند عناصر کی مدد کرنی چاہئے۔ جب تک امریکی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں آتی تب تک اسے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔‘‘

Bild von Farzana Wahidy Frauen in Afghanistan

سارہ اوران کی تنظیم راوا کی دیگرخواتین کو اس سال افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے حالات میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے باوجود راوا اپنی تحریک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حالانکہ اس کے مالی وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں جس کے سبب اس تنظیم کو اپنی بہت سی زیرزمین سرگرمیوں کو بھی ختم کرنا پڑرہاہے۔ سارہ کا ایک پیغام ہے: ’’افغانستان آزاد نہیں ہوا۔ ہم آزاد نہیں ہیں۔ ہماری آزادی اورجمہوریت کی جدوجہد کو ابھی ایک طویل فاصلہ طے کرنا ہے۔ ہم دنیا کے تمام شہریوں سے ایک درخواست کرتے ہیں۔ ہماری جمہوری صداؤں اورتنظیموں کی عملی، سیاسی اورمالی امداد کیجئے۔ آپ کو ہمیں بھولنا نہیں چاہئے۔‘‘

RAWA کی ہمنوائی افغانستان کی متعدد دیگر تنظیمیں کررہی ہیں۔ راوا تنظیم کی سرگرمیوں اور اس کی جانب سے عالمی برادری پر کی جانی والی تنقید کے بارے میں ڈوئچے ویلے نے بات کی پاکستان کی ویمن رائٹرزایسوسی ایشن سے منسلک ایک معروف افسانہ نویس اورڈرامہ نگار بشریٰ ملک سے۔ بشریٰ خود ایک پشتون گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور پشاور میں ترقی پسند اور روشن خیال خواتین کی متعدد انجمنوں سے وابستہ رہی ہیں۔ راوا کی سرگرمیوں پر بھی گہری نظررکھتی ہیں۔ بشریٰ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی خواتین کو درپیش مسائل کی اہم ترین وجہ اس قدامت پسند معاشرے کی روایات ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری افغان خواتین کے مسائل کو یا تو مذہبی پیرائے میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہے یا پھر اسے انتہا پسندی کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ بشریٰ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سیاسی اورجغرافیائی صورتحال بھی وہاں کی خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنانے میں غیرمعمولی کردارادا کرتی ہے۔ پختون گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس پاکستانی مصنفہ نے راوا کی خواتین کی آزادی اور حقوق کی جدو جہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی برادری اس طرح کی تنظیموں کی امداد کے بجائے افغانستان کی حکومت اور حکام کی مدد کرتی رہی ہے۔ بشریٰ نے کہا کہ افغاستان کے حکمرانوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ ترقی اور آزادی کے لئے تمام تر کوششیں محض کابل تک محدود رکھتے ہیں۔ وہ خود کو افغانستان کے عوام کے ساتھ وابستہ نہیں کرتے۔ مغربی تصورآزادی نسواں اور جدیدیت اگر صرف اور صرف حکمران طبقے کے لئے محدود ہو تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین کے اندر تعلیم جب تک عام نہیں کی جائے گی افغانستان میں ترقی نہیں ہو سکتی۔

Afghanistan hofft auf Frieden


راوا کی تاریخ پر ایک نظر:


The revolutionary Association of women in Afghanistan کی بنیاد 1977 میں کابل میں رکھی گئی۔ اس آزاد سیاسی اور سماجی تنظیم کے قیام کا مقصد افغانستان کی خواتین کے لئےانسانی حقوق اور سماجی انصاف کی جدو جہد کرنا تھی۔ مٹھی بھرافغان دانشوراورروشن خیال خواتین اس تنظیم کے بانیوں میں شامل تھے۔ اس تحریک کی روح رواں یا لیڈر مینا تھیں جنہیں 1987 میں کوئٹہ پاکستان میں قتل کر دیا گیا۔ ان کے قتل میں مبینہ طور پرگلبدین حکمت یار کے انتہا پسند گروپ کا ہاتھ بنایا جاتا ہے۔ راوا تنظیم نے بہت جلد ہی سیاسی اور سماجی سطح پر شہرت حاصل کرلی اور اس کی رکنیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ افغانستان میں جمہوریت کا فروغ، معاشرتی مساوات، تعلیم اورصحت کے بہترمواقع اورگھٹے ہوئے سیاسی ماحول میں نئی اور تازہ ہوا کی لہر لانے کی کوششیں راوا کی سرگرمیوں کے مقاصد تھے۔ ساتھ ہی انقلابی خواتین کی یہ تنظیم عوامی مظاہرے بھی کرنے لگی۔ سابق سویت یونین کے قبضے کے دورمیں اس تنظیم کو کافی دشواریوں کا سامنا رہا۔ اس کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی۔ راوا تب سے ہی ایک زیر زمین تنظیم ہے۔ اس کی شاخیں چند مغربی ممالک میں بھی پائی جاتی ہیں۔