1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

طالبان کے ایک عشرے بعد بھی خواتین مشکلات کا شکار

افغانستان میں طالبان کا جابرانہ طرز حکومت ختم ہوئے قریب ایک دہائی گزرچکی ہے مگر اس جنگ زدہ ملک کی خواتین کے طرز زندگی میں نہایت ہی معمولی بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔

default

افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم خاتون نور جہاں اکبر کا کہنا ہے کہ کابل حکومت اس محاذ پر اب تک خاطر خواہ پیشرفت نہیں کرسکی ہے۔ ’’خواتین کے حوالے سے قریب ہر خبر ہی کا ایک تاریک پہلو ہوتا ہے، حکومت نے بہت سے قوانین تو بنائے مگر خواتین پر ظلم کرنے والے بہت سوں کو رہائی دی گئی ہے۔‘‘

افغانستان میں خواتین کا محض ۱۲ فیصد اور مردوں کا ۴۰ فیصد خواندہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق دیہی علاقوں میں کم عمر خواتین کی جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں۔ یو این کی انہی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کی ۲۵ فیصد خواتین ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

Afghanistan Karzai Wahl

افغانستان میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوران ایک خاتون اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

افغان ویمن نیٹ ورک کی بانی عفیفہ عظیم کہتی ہیں کہ ایک بڑا مسئلہ گھریلو تشدد بھی ہے حالانکہ اس کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ برس خواتین سے متعلق ایک مسودہ قانون نے تنازعات کے ایک سلسلے کو جنم دیا۔ اس کے تحت شیعہ مرد حضرات کو بیوی کا کھانا اور خرچہ بند کرنے کی بات کی گئی تھی، جو ان کی جسمانی خواہشات کی تکیمل نہیں کرتیں۔ پارلیمان میں موجود بہت ساری خواتین کا شکوہ ہے کہ قانون سازی کے معاملات میں ان کی رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

ہرات سے پارلیمان کی رکن ناہید فرید کا کہنا ہے کہ وہ ۲۰۱۴ء کے بعد کے حالات سے بھی قدرے خوفزدہ ہیں جب غیر ملکی فوج افغانستان سے نکل جائے گی۔ صوبہ بلخ کی یونیورسٹی میں پروفیسر حامد صفوت کے بقول افغان معاشرہ اس وقت جدید نظریات اور روایتی اقدار کے ٹکراؤ کے دور سے گزر رہا ہے۔ صفوت کا کہنا ہے کہ ثقافت اور روایت افغان معاشرے کی گہریں بنیادیں ہیں۔ ان کے بقول خاص طور پر خواتین اساتذہ، وکلاء، ڈاکٹر، فنکار اور طالب علم عسکریت پسندوں کی واپسی سے خوفزدہ ہیں۔

NO FLASH Parlament in Kabul Afghanistan

افغان پارلیمان میں خواتین کو نمائندگی حاصل ہے

۱۹۹۶ء میں طالبان کے ہاتھوں کوڑوں کی سزا پانے والی ایک خاتون نفیسہ کہتی ہیں کہ وہ اب بھی اُس وقت کو یاد کرکے خوف کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ’’میں اپنی بچی کے لیے بازار سے دودھ خریدنے گئی تو طالبان نے مجھے اکیلے گھر سے نکلنے کی سزا کے طور پر کوڑے لگائے، تکلیف کے باعث میرے ہاتھ سے دودھ گر گیا اور میں بے ہوش ہوگئی تھی۔‘‘

نفیسہ کی وہی بچی اب ۱۲ برس کی ہے، اسکول جاتی ہے اور اپنی والدہ کے مقابلے میں قدرے آزاد فضاء میں سانسیں لے رہی ہے مگر اس کی والدہ نفیسہ کا دل مستقبل کے حوالے سے اب بھی خدشات کا شکار ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM