1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کی شرائط مذاکرات سے پہلے قبول نہیں، سرتاج عزیز

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں اعتماد کا فقدان سرحد پار حملے روکنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ سرتاج عزیز کے بعقول طالبان کی شرائط مذاکرات کے آغاز سے پہلے نہیں بلکہ مذاکرات کے نتیجے میں قبول ہوں گی۔

پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ فیلپ ہیمنڈ نے وزیر اعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلپ ہیمنڈ نے دہشت گردی کی خلاف پاکستانی عوام اور فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان خطے میں امن و استحکام، دہشت گردی کے خاتمے اور دنیا کے لیے بہتر ی کی جنگ میں بھی شراکت دار ہیں اور رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز سے ملاقات میں علاقائی استحکام سے متعلقہ امور بھی زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمت کے لیے پاکستان کی کوششیں خوش آئند ہیں اور انہوں نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری افغان امن عمل کے لیے مزید کیا کر سکتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا، ’’کچھ دہشت گرد افغانستان سے آ کر پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ اسی طرح کچھ دہشت گرد پاکستان سے جا کر افغانستان میں حملے کر رہے ہیں۔ دونوں حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ایک دوسرے کے ملک پر حملے کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی سکیورٹی کا خیال رکھیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے میں ایک سطح پر اتفاق ہے لیکن ساتھ ہی عدم اعتماد بھی موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد قائم ہوگا۔‘‘

London Außenminister Philip Hammond Downing Street in London

پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں

پاکستان اور اس کے پڑوسی ملک بھارت کے درمیان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فیلپ ہیمنڈ نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ غیر ریاستی عناصر، دہشت گردگروپوں اور سیاسی پریشر گروپوں کو مذکراتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہ دیں۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور بھارت کی حکومتیں مذاکرات کو اپنے ملکوں کے لیے ضروری سمجھتی ہیں اور دنوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل پیشگی شرط نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مذاکرات کو بہت مشکل بنا دے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے دیگر امور ہیں، جن پر پاکستان اور بھارت بہت تعاون کر سکتے ہیں اور پھر اس طرح اعتماد کی بحالی کے ذریعے بڑے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر پاکستانی مشیر خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ افغان امن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی کہ افغان امن عمل کے لئے مذکرات کا سلسلہ آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بات چیت کے مرکزی کردار طالبان اور افغان حکومت ہیں جبکہ پاکستان، چین اور امریکا کا اس بات چیت میں کردار سہولت کار کا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے مذکرات میں شرکت سے انکار کے بارے میں سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی شرائط مذاکرات کے آغاز سے پہلے نہیں بلکہ مذاکرات کے نتیجے میں قبول ہوں گی۔ انہوں نے کہا، ’’افغان طالبان تک پہنچایا جانے والا بنیادی پیغام یہی ہوگا کہ بہت سی شرائط جو وہ پیش کر رہے ہیں وہ مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں لیکن مذاکرات سے قبل ان کا تسلیم کیا جانا ممکن نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان مذکرات کے انعقاد کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاک بھارت تعلقات کے بارے میں مشیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پاک بھارت خارجہ سکیرٹریوں کی سطح کے مذاکرات جلد بحال ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ کے حوالے سے ہماری مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنا کام مکمل کر رہی ہے اور اگلے چند دنوں میں بھارت کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام امور پر بات چیت ضروری ہے اور دہشت گردوں کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ہمارے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچائیں۔

بھارت کو دہشت گردوں کے ممکنہ حملے سے پیشگی مطلع کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں انٹیلی جنس ایجنسیاں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی دوسرے ملکوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے تاہم غیرمعمولی بات یہ ہے کہ اس نوعیت کی معلومات کے تبادلے کو میڈیا کے سامنے نہیں لانا چاہیے جو بقول سرتاج عزیز بھارت کی طرف سے کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان اور بھارت اس شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔