1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کو رقم نہیں دی، اطالوی حکومت

اطالوی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اطالوی حساس اداروں نے افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کو ایک خاص عرصے تک خود پر حملے نہ کرنے کے لئے ایک مخصوص رقم فراہم کی تھی۔

default

برطانوی اخبار ’’دی ٹائمز‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اطالوی حساس ادارے کے اہلکاروں نے 2008 ء میں کابل کے نواح میں واقع صوبہ ہرات کے ضلع سروبی میں اپنے فوجی دستوں کی سلامتی کے لئے وہاں کے مقامی جنگجو کمانڈروں اور طالبان عسکریت پسندوں کو ہزاروں ڈالر بطور ’’رشوت‘‘ دئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ رقم عسکریت پسندوں کو اس خاص وقت تک حملے روک دینے کے لئے دی گئی تھی، جب تک سروبی سے اطالوی دستوں کی تعیناتی کسی دوسرے علاقے میں نہیں ہو جاتی۔

Silvio Berlusconi

اطالوی وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی

2008ء میں ہی بعد ازاں سروبی میں اطالوی فوج کے جگہ فرانسیسی دستے تعینات کئے گئے تھے، جن کی آمد کے فوری بعد ہی طالبان سے ایک جھڑپ میں 10 فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ فرانسیسی دستوں کو اطالوی فوج نے اس علاقے کے موجود خطروں سے اندھیرے میں رکھا، جس کے باعث فرانسیسی دستے سروبی میں تعیناتی کے وقت پوری طرح سے مسلح نہیں تھے کیونکہ وہ یہی سمجھتے رہے کہ یہ علاقہ پرامن ہے۔

اطالوی وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی کے دفتر سے جاری شدہ ایک بیان میں اس رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو قطعی طور پر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’بیرلسکونی حکومت نے طالبان کو کسی قسم کی بھی رقم فراہم نہیں کی اور نہ ہی اس کے پاس گزشتہ حکومت کی جانب سے ایسے کسی عمل کی اطلاعات ہیں۔‘‘

Italien Afghanistan Beerdigung von getöteten Soldaten in Rom

اس سال ستمبر میں چھ اطالوی فوجی طالبان کے حملے میں ہلاک ہوئے

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اطالوی دستوں پر طالبان عسکریت پسندوں نے بارہا حملے کئے ہیں۔ ’’فروری 2008ء میں طالبان کے ایک حملے میں ایک اطالوی فوجی افسر فرانسسکو پیزولو بھی ہلاک ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اس وقت کی نیٹو اور امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ میکرنن نے بھی ضلع سروبی میں اطالوی فوج کی کارکردگی کی تعریف کی تھی اور انہیں باقی دستوں کے لئے ایک رول ماڈل یا مثال قرار دیا تھا جبکہ اطالوی حساس اداروں کے کام کی بھی بہت تعریف کی گئی تھی۔‘‘

ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ دعوٰی بھی کیا تھا کہ روم میں اس وقت کے امریکی سفیر نے اطالوی حکومت سے اس معاملے پر احتجاج بھی کیا تھا۔ تاہم اطالوی حکومت کے بیان میں ایسے کسی بھی ’’احتجاج‘‘ سے انکار کیا گیا ہے۔ افغانستان میں 2800 کے قریب اطالوی دستے وہاں کے ISAF مشن کا حصہ ہیں۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: امجد علی