1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کا پاکستان بھر میں فائر بندی کا اعلان

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے امن مذاکرات کی خاطر یکطرفہ طور پر ملک بھر میں فائر بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان اس مسلح تحریک کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ایک قریبی کمانڈر کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

default

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق طالبان کے اس کمانڈر نے پیر کو رات گئے ایک بیان جاری کیا، جس کی تفصیلات منگل کی شام کو سامنے آئیں اور جس میں کہا گیا ہے، ’’ہم امن عمل کی خاطر پاکستانی فوج اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنا رہے۔‘‘ اگرچہ طالبان کے اس مبینہ کمانڈر نے ملک گیر سطح پر فائر بندی کا اعلان کیا ہے مگر چونکہ طالبان کوئی ایک منظم تنظیم نہیں اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا واقعی تمام عسکریت پسند گروہ فائر بندی پر تیار ہوگئے ہیں۔

اس بیان سے قبل ذرائع ابلاغ میں پاکستانی انٹیلی جنس کے ذرائع اور عسکریت پسندوں کے حوالے سے ایسی خبریں گردش میں تھیں کہ طالبان اور پاکستانی فوج کے مابین غیر اعلانیہ طور پر امن مذاکرات ہو رہے ہیں اگرچہ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے نے ان اطلاعات کی تردید کر دی تھی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ امن معاہدہ محض وزیرستان کی حدود تک محدود رہے گا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ قریب ساڑھے چار سال کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں اور ملکی فوج کی کارروائیوں میں 35 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستانی فوج نے اس سے قبل بھی عسکریت پسندوں سے اسی طرز کے معاہدے کیے، جن سے عسکریت پسندوں کو دوبارہ اپنے وسائل منظم کرنے کا موقع ملا اور پھر امن معاہدے ختم ہوگئے۔

پاکستانی امور پر نظر رکھنے والے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سے وابستہ محمد عامر رانا کے بقول فائر بندی کا حالیہ اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امن عمل کا آغاز ہوا ہے تاہم اصل حقائق کا اندازہ وقت کے ساتھ ہی ہوسکے گا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM