1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان نے نیٹو ہیلی کاپٹر مار گرایا، 31 امریکی ہلاک

افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، جس کے نتیجے میں اُس پر سوار امریکی خصوصی فوجی یونٹ کے 31 ارکان کے ساتھ ساتھ 7 مقامی فوجی بھی ہلاک ہو گئے۔

ایک امریکی ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر

ایک امریکی ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر

سن 2001ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غیر ملکی فوجیوں کا کسی ایک واقعے میں ہونے والا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ اِس ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر کو افغان دارالحکومت کابل سے جنوب مغرب کی جانب مشرقی افغان صوبے وردک میں طالبان کے خلاف جاری ایک آپریشن کے دوران مار گرایا گیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے ضلع میں پیش آیا، جہاں باغیوں کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔

اگرچہ مغربی اور افغان حکام ابھی یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حقیقت میں کیا واقعہ پیش آیا ہے تاہم ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو فائرنگ کے ایک تبادلے کے دوران ایک راکٹ آ کر لگا تھا۔ طالبان نے یہ کہتے ہوئے کہ اُنہوں نے اس ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے، اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی سرکردگی میں سرگرم عمل بین الاقوامی محافظ دستے ISAF کی جانب سے اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک تعزیتی بیان میں ’نیٹو کے ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی اور اُس میں امریکی اسپیشل فورسز کے 31 ارکان کی ہلاکت‘ پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی امریکی صدر باراک اوباما اور مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ افغان وزارتِ دفاع کے مطابق اس واقعے میں مرنے والے افغان فوجی بھی خصوصی فورسز کے سپاہی تھے۔

اس سے پہلے کسی ایک واقعے میں سب سے زیادہ جانی نقصان 28 جون سن 2005ء کو ہوا تھا، جب طالبان نے مشرقی صوبے کنڑ میں ایک راکٹ کی مدد سے ایک ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا تھا۔ تب 16 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے

اس سے پہلے کسی ایک واقعے میں سب سے زیادہ جانی نقصان 28 جون سن 2005ء کو ہوا تھا، جب طالبان نے مشرقی صوبے کنڑ میں ایک راکٹ کی مدد سے ایک ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا تھا۔ تب 16 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے

تقریباً ایک عشرے سے جاری جنگ میں اس سے پہلے اب تک غیر ملکی فوجیوں کو کسی ایک واقعے میں اتنا بڑا جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔ اس سے پہلے کسی ایک واقعے میں سب سے زیادہ جانی نقصان 28 جون سن 2005ء کو ہوا تھا، جب طالبان نے مشرقی صوبے کنڑ میں ایک راکٹ کی مدد سے ایک ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا تھا۔ تب 16 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک عینی شاہد محمد صابر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہیلی کاپٹر اُس کے گاؤں میں جاری ایک آپریشن کے دوران تباہ ہوا:’’گزشتہ رات دَس بجے کے قریب ہم نے اپنے اوپر ہیلی کاپٹر کے اڑنے کی آواز سنی۔ ہم اپنے گھر پر تھے۔ ہم نے ہیلی کاپٹروں میں سے ایک کو ایک طالبان کمانڈر کے گھر پر اترتے دیکھا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہ ہیلی کاپٹر ایک بار پرواز کے لیے بلند ہوا لیکن فضا میں بلند ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد گرا اور گر کر تباہ ہو گیا۔ دیگر ہیلی کاپٹر ابھی فضا میں ہی محو پرواز تھے۔‘‘

وردک صوبے کے ترجمان شہید اللہ شاہد کے مطابق یہ واقعہ ضلع سید آباد میں طالبان کے خلاف غیر ملکی اور افغان اسپیشل فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران پیش آیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران آٹھ باغی ہلاک ہو گئے۔ ترجمان کا کہنا تھا، وہ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا نیٹو کا ہیلی کاپٹر درحقیقت طالبان کی فائرنگ سے ہی تباہ ہوا۔

ISAF کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس واقعے سے متعلق کوئی بیان ’مناسب وقت آنے پر‘ جاری کیا جائے گا۔ اُدھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکی ’شنوک‘ ہیلی کاپٹر کو طالبان نے مار گرایا ہے۔ ساتھ ہی طالبان کے ترجمان نے آٹھ طالبان کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس