1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان نے بھی ٹرمپ کو پیغام بھیج دیا

افغان طالبان نے اپنے ایک پیغام میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ انہیں باراک اوباما اور جارج بش کے نقش قدم کی پیروی کی بجائے افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ بات طالبان کی طرف سے ہفتہ 21 جنوری کی شب ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ اس بیان کے مطابق امریکا اور نیٹو اتحادی افغانستان میں ناکام ہو چکے ہیں اور اگر جارحیت جاری رہی تو ’’وہ وقت زیادہ دور نہیں ہو گا جب ان (ٹرمپ) کی سربراہی میں امریکی فوجیوں کو زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا ہو گا۔‘‘

ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف جمعہ 20 جنوری کو اٹھایا تھا۔ انہوں نے افغانستان میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے بگرام ایئرفیلڈ پر تعینات امریکی فوجیوں سے بذریعہ ویڈیو پیغام بات کی تھی اور انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ تاہم افغانستان کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسی ابھی تک غیر واضح ہے۔

USA Amtsübernahme Trump Eid (Getty Images/AFP/T. A. Clary)

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف جمعہ 20 جنوری کو اٹھایا تھا

طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’گزشتہ 16 برسوں کے دوران کئی ملین ڈالرز ضائع کیے گئے، ہزارہا امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ کوئی طریقہ ایسا نہیں چھوڑا گیا، جسے آزمایا نہ گیا ہو، مگر نہ صرف امریکا بلکہ اس کے نیٹو اتحادی بھی اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ تھک چکےہیں۔‘‘

ڈی پی اے کے مطابق 2014ء کےآخر میں افغانستان میں نیٹو کے جنگی مشن کے اختتام کے بعد اب بھی قریب 10 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں، جو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے تربیتی اور مشاورتی مشن TAA سے منسلک ہیں۔

افغان فورسز طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں نبرد آزما ہیں جبکہ طالبان کئی جگہ طاقت پکڑ رہے ہیں۔ افغانستان کے چیف ایگزیکیٹیو عبداللہ عبداللہ نے ہفتہ 21 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہٴ صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔