1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان نے امریکی، آسٹریلوی یرغمالیوں کی نئی ویڈیو جاری کر دی

افغان طالبان نے گزشتہ برس اگست میں اغوا کیے گئے امریکی اور آسٹریلوی یرغمالی پروفیسروں کی ایک نئی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ اس ویڈیو میں ان دونوں غیر ملکیوں نے اپیل کی ہے کہ ان کی رہائی کے لیے نتیجہ خیز کوششیں کی جائیں۔

default

جنوری میں طالبان کی جاری کردہ ایک ویڈیو سے لی گئی امریکی پروفیسر ٹموتھی ویکس کی ایک تصویر

افغان دارالحکومت کابل سے جمعرات بائیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق طالبان نے یہ نئی ویڈیو بدھ اکیس جون کو رات گئے انٹرنیٹ پر جاری کی۔ اس ویڈیو میں آسٹریلوی شہری ٹموتھی وِیکس اور امریکی شہری کیوِن کنگ کو یہ اپیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا اور امریکا کی حکومتوں کو ان دونوں افراد کی رہائی کے سلسلے میں کسی حل تک پہنچنے کے لیے افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہییں۔

اسی ویڈیو میں ان دونوں یرغمالیوں نے کہا کہ ان کی رہائی ممکن بنانے کے لیے طالبان کے ان ’فوجیوں‘ کو، جو بگرام کے امریکی فوجی اڈے اور کابل میں پلِ چرخی کی جیل میں بند ہیں، لازمی طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

ہلمند میں خود کش کار بم حملہ: درجنوں افراد ہلاک، بیسیوں زخمی

جوزجان میں افغان دستوں، داعش کے جنگجوؤں کے مابین شدید جھڑپیں

افغانستان میں پچھلی غلطیاں نہیں دہرائیں گے، امریکی وزیر دفاع

ہندو کش کی اس ریاست میں ان دونوں غیر ملکیوں کو طالبان نے گزشتہ برس اگست میں اغوا کیا تھا۔ تب سے اب تک وہ طالبان ہی کے قبضے میں ہیں۔ یہ دونوں یرغمالی کابل میں امیریکن یونیورسٹی آف افغانستان کے پروفیسر ہیں اور انہیں اسی یونیورسٹی کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔

Amerikanische Universität in Afghanistan

کابل میں قائم امیریکن یونیورسٹی آف افغانستان کا کیمپس

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ آسٹریلوی شہری ٹموتھی وِیکس، جو دیکھنے میں صحت مند نظر آ رہے تھے، نے کہا، ’’میرے لیے آسٹریلیا میں اپنے گھر جانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ آسٹریلوی وزیر اعظم اس بارے میں طالبان سے بات کریں۔‘‘

داعش نے طالبان کے مشہور زمانہ تورا بورا غاروں پر قبضہ کر لیا

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اچانک دورے پر کابل میں

اس کے برعکس امریکی پروفیسر کیوِن کنگ اس ویڈیو میں اپنی الجھی ہوئی داڑھی کے ساتھ کافی پریشان نظر آ رہے تھے اور بظاہر ان کی صحت بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ انہوں نے بھی واشنگٹن انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے زیادہ کوششیں کرے۔

افغانستان میں، جہاں پورے ملک میں سلامتی کی صورت حال مسلسل خراب ہو رہی ہے، خاص طور پر دارالحکومت کابل میں ملکی اور غیر ملکی باشندوں کے اغوا کے واقعات گزشتہ چند برسوں میں بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

DW.COM