1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان نے ’آپریشن منصوری‘ کا آغاز کر دیا

افغان طالبان نے رواں برس موسم بہار کے حملے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان نے اس برس اپنے حملوں کو اپنے سابق رہنما مُلا اختر منصور کے نام پر ’’آپریشن منصوری‘‘ کا نام دیا ہے۔

افغان طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آپریشن منصوری‘ نامی ان نئے حملوں میں افغان اور غیر ملکی فورسز کو نشانہ بنایا جائے گا، جن میں ان کی ملٹری اور انفراسٹرکچر پر حملے شامل ہوں گے۔

افغان طالبان کی طرف سے رواں برس موسم بہار میں شروع کیے جانے والے ان حملوں کو ’’آپریشن منصوری‘‘ کا نام اپنے سابق رہنما مُلا اختر منصور کے نام پر دیا گیا ہے جو مئی 2016ء میں ایک امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

Mullah Muhammad Akhtar Mansoor (picture-alliance/dpa/Afghan Taliban Militants/Handout)

طالبان کی طرف سے رواں برس کے حملوں کو ’’آپریشن منصوری‘‘ کا نام اپنے سابق رہنما مُلا اختر منصور کے نام پر دیا گیا ہے جو مئی 2016ء میں ایک امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا

طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق رواں برس کا آپریشن اپنی نوعیت میں گزشتہ برسوں کے حملوں کے مقابلے میں مختلف ہو گا اور اس میں دوہرا یعنی سیاسی اور فوجی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ طالبان باغی ہر سال موسم سرما کے بعد منظم حملوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ تاہم اس سال ان باغیوں نے سردیوں میں بھی اپنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی طالبان نے مزار شریف میں واقع فوجی اڈے پر ایک خونریز کارروائی میں ایک سو چالیس افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کے کنٹرول والے علاقوں میں وہ ریاستی ڈھانچہ کھڑا کریں گے اور ’’ادارے بنائے جائیں گے تاکہ شہریوں کے تحفظ اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

Afghanistan Taliban-Angriff auf Militärlager in Mazar-i-Sharif (Reuters/A. Usyan)

ایک ہفتہ قبل ہی طالبان نے مزار شریف میں واقع فوجی اڈے پر ایک خونریز کارروائی میں ایک سو چالیس افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا نصف سے زائد حصہ اُن کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک امریکی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ افغان حکومت کے پاس ملک بھر کے صرف 52 فیصد علاقوں کا کنٹرول ہے۔

داعش کے خلاف کارروائی میں دو امریکی فوجی ہلاک

دوسری طرف افغان صوبہ ننگر ہار میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک زمینی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے بتایا ہے کہ امریکی فوجی مقامی دستوں کے ساتھ بدھ کے دن کی گئی اس کارروائی میں شریک ہوئے تھے۔ شمالی افغانستان میں ہونے والی اس جھڑپ میں داعش کے درجنوں جنگجو بھی مارے گئے۔

امریکی دستے مقامی فوجیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وسطی ایشیائی ملک میں داعش کے آٹھ سو جنگجو فعال ہیں۔