1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان مزید حملے کریں گے : تحریک طالبان پاکستان

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کے نائب اورخصوصی ترجمان حکیم اللہ محسود نے لاہور میں پولیس اورخفیہ ایجنسی کے دفاتر پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید سرکاری تنصیبات کو ہدف بنانے کا اعلان بھی کیا۔

default

سوات میں پاکستانی فوج ایک بڑا آپریشن سرانجام دے رہی ہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کے نائب اور خصوصی ترجمان حکیم اللہ محسود نے بدھ کے روز لاہور میں پولیس اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کے دفاتر پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید سرکاری تنصیبات کو ہدف بنانے کا اعلان بھی کیا۔

جمعرات کے روز کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے حکیم اللہ محسود نے دعویٰ کیا کہ لاہور حملہ سوات میں جاری فوجی کارروائی کا ردعمل تھا۔

” لاہور میں کل جو فدائی حملہ ہوا یہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کا حملہ نہیں تھا یہ سوات میں جو آپریشن ہو رہا ہے اور معصوم لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور سوات کے مجاہدین پر جو بمباری ہو رہی ہے یہ اس کا بدلہ ہے۔ سوات میں جب سے آپریشن شروع ہے اسی دن سے ہم ٹارگٹ بنانے میں مصروف تھے الحمد للہ پہلے ٹارگٹ کو ہم پہنچ گئے ۔‘‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ مسائل کا حل طاقت کے ذریعے نہیں چاہتے لیکن بقول ان کے حکومت امریکی ایماء پر قبائلیوں کو قتل اور اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال پر طالبان ترجمان نے کہا کہ وہ صدر آصف زرداری کی طرح جنگ کو آخری آپشن نہیں سمجھتے اور یہ کہ وہ جنگ رکنے کا انتظار کریں گے۔ البتہ حکیم اللہ محسود نے فوجی آپریشن کے جاری رہنے تک پاکستان کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

” ہم پاکستانی قوم سے محبت رکھتے ہیں اور اس محبت کی وجہ سے ہم لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور ملتان کے شہریوں سے ہمدردانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے شہر خالی کر دیں کیونکہ اس میں حکومت کے جو ٹارگٹ ہم نے مقرر کئے ہیں ان پر سخت ترین حملے کئے جائیں گے جو اس سے پہلے نہیں ہوئے ہیں۔‘‘

طالبان ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کا سوات کی طالبان قیادت سے رابطہ ہے اور بقول ان کے وہ محفوظ ہیں۔ البتہ ادھر سرحد حکومت کی جانب سے تحریک طالبان سوات کے سرکردہ رہنماﺅں کی اطلاع دیئے جانے پر بھاری انعامی رقوم کا جو اعلان کیا گیا ہے اسے سلامتی امور کے ماہرین طالبان قیادت کو پکڑنے کے لئے اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس بارے میں سوات اور قبائلی علاقوں کے لئے آئی ایس آئی کے سابق چیف بریگیڈیٹر (ر) اسد منیر کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ انعامی رقوم کے اعلان کے بعد مطلوب شدت پسند رہنماﺅں کے بارے میں اطلاعات ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں طالبان کے زیر اثر علاقوں میں اس نوعیت کی خفیہ اطلاعات دینے کا ایک مطلب موت کو گلے لگانا ہے ۔کیونکہ ماضی میں طالبان، سرکار کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں متعدد افراد کے گلے کاٹ چکے ہیں اور اس طرح کے وحشت ناک مناظر کی عکس بندی کر کے بعد ازاں انہیں پورے علاقے میں پھیلا دیا جاتا ہے تا کہ آئندہ اس طرح کی کوئی بھی جراءت نہ کر سکے۔

DW.COM