1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’طالبان مذاکرات کے لئے تیار نہیں‘

افغانستان میں طالبان کے ایک ترجمان قاری محمد یوسف نے صدر حامد کرزئی کی جانب سے امن مذاکرات کی پیش کش کو مبینہ طور پر ٹھکراتے ہوئے افغان صدر کو کٹھ پتلی اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔

default

طالبان ترجمان قاری بشیر، فائل فوٹو

صدر کرزئی نے گزشتہ روز کابل میں پارلیمان سے خطاب کے دوران طالبان کو ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔ طالبان قیادت ماضی میں اس قسم کی پیشکش کے جواب میں ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

حال ہی میں طالبان کی اعلیٰ قیادت سے تعلق رکھنے والے کمانڈر ملا عبدالغنی برادر کی پاکستان سے گرفتاری کو مجوزہ امن مذاکرات کے تناظر میں خاصا اہم خیال کیا جارہا ہے۔ اس طالبان کمانڈر کو اب تک گرفتار کئے گئے طالبان میں سب سے اہم اور طالبان کے قائد ملا محمد عمر کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے۔ ملا برادر کے ساتھ طالبان کے دو دیگر قائدین کو بھی پاکستانی آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے کے مبینہ مشترکہ آپریشن میں گرفتار کیا گیا ہے۔ افغان رکن پارلیمان شکریہ باریکزئی کے بقول ملا برادر کابل حکام کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کررہے تھے تاہم اسلام آباد حکومت نے اپنے زیادہ اہم کردار کے لئے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ کابل حکومت نے البتہ باضابطہ طو پر ملا برادر کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

Flash-Galerie US Militär Afghanistan

افغان ضلع لشکر گاہ میں امریکی فوجی مقامی عمائدین کے ایک ’جرگے‘ سے مخاطب

طالبان ترجمان قاری یوسف کی جانب سے جاری حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی کے اردگرد ’بدعنوان‘ لوگ جمع ہیں جو خود کو امیر تر کرنے کی فکر میں ہیں۔ طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہلمند کے قصبے مرجا میں ان کے جنگجو نیٹو اور افغان فوج کے پندرہ ہزار اہلکاروں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔

افغانستان متعین ’انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس، آئی سیف‘ نے بھی طالبان کی جانب سے مزاحمت کی رپورٹوں کی تصدیق کی ہے۔ ’آئی سیف‘ کی ہملند متعین جنوبی کمان سے جاری ایک بیان کے مطابق علاقے سے عسکریت پسندوں کا مکمل صفایا کرنے میں کم از کم تیس دن لگ سکتے ہیں۔

نیٹو نے مرجا میں تیس کے لگ بھگ طالبان اور بارہ سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ طالبان ترجمان نے محض چودہ جنگجوؤں کی ہلاکت تسلیم کی۔ ہلمند میں جاری ’آپریشن مشترک‘ میں سولہ سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔ افغان صدر نے پارلیمان سے خطاب کے دوران اتحادی افواج پر زور دیا کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کی روک تھام کو ممکن بنانے کے لئے مزید اقدامات کریں۔

Afghanistan Verfassung Hamid Karsai

افغان صدر حامد کرزئی مسلح جدوجہد ترک کردینے والے طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی نئی پالیسی پر عمل پیراں ہیں

دریں اثناء اس جنگ میں امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی، مغربی دفاعی اتحاد ’نیٹو‘ کے رکن ممالک میں عوامی رائے روز بہ روز جنگ مخالف ہوتی جارہی ہے۔ ہفتے کو اسی دباؤ کے تحت یورپی ملک ہالینڈ میں حکومتی اتحادی جماعتوں نے علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت تحلیل کردی۔ کرسچن ڈیموکریٹ اور لیبر پارٹی کے مابین نیٹو کی درخواست پر افغان مشن میں توسیع کے معاملے پر اختلافات شدید تر ہوگئے تھے۔

اس سلسلے کے ایک اور اہم ترین ملک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی لگ بھگ پندرہ ہزار افراد نے نیٹو کے افغان مشن کے خلاف احتجاج کیا۔ بائیں بازو کے حامیوں کے اس احتجاج میں اس مشن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ازخود دہشت گردی سے تشبیح دی گئی۔ جرمن حکومت البتہ اس مشن کو یورپ کی سلامتی کے حوالے سے بھی اہم سمجھتی ہے۔ دنیا بھر کی نظریں بالخصوص اب ’آپریشن مشترک‘ پر ہیں کہ کس انداز سے طالبان کی شکست اور ملک کے اس جنوبی شورش زدہ خطے میں کابل حکومت کا اثر ورسوخ قائم ہوتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM