1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان مخالف امن لشکر کی حکومت کو دھمکی

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف برسرپیکار امن لشکر کی طرف سے حکومت کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر حکومت نے مناسب وسائل فراہم نہ کیے تو وہ اپنا تعاون واپس لے سکتے ہیں۔

default

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں موجود طالبان کے خلاف وہاں کے مقامی باشندوں نے حکومتی سرپرستی میں امن کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں۔ ان امن کمیٹیوں کے مصلح لشکروں کا کام طالبان کی عسکری کارروائیوں کی سرکوبی کرنا ہے۔

گزشتہ روز پشاور کے قریب ادیزئی کے علاقے میں امن لشکر کے ایک رہنما وکیل خان کی اہلیہ کی نماز جنازہ کے وقت خودکش حملے میں 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر امن لشکر کے رضاکار تھے۔ اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی تھی۔

Selbsmordanschlag in Pakistan

بدھ نو مارچ کو پشاور کے قریب ادیزئی کے علاقے میں خودکش حملے میں 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے

اس خودکش دھماکے کے بعد امن لشکر کے سربراہ دلاور خان نے انتظامیہ کے خلاف خفگی کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر دو دن میں انہیں وسائل فراہم نہ کیے گئے تو وہ امن کمیٹی کی بجائے طالبان کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا ابھی تک نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت نے ان سے کوئی تعاون کیا ہے۔ ان کے بقول حکومت نے کئی بار وسائل فراہم کرنے کے وعدے کیے لیکن کوئی مدد نہیں کی اور اب اس طرح کے واقعات روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔

دلاور خان نے اس موقع پر کہا، ’’ہم آج بھی عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کےلیے تیار ہیں لیکن اگر حکومت اور انتظامیہ کا یہی رویہ رہا تو حالات مزید خرابی کی طرف جائیں گے۔‘‘

دوسری طرف خیبر پختونخواہ کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے جائے حادثہ کے ایک دورے کے دوران امن کمیٹیوں کو ہرممکن تعاون کا یقین دلایا، ’’امن کمیٹی کو ہر قسم کی سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ میں آج بھی ہر قسم کے تعاون کا وعدہ کرتا ہوں۔ میں امن کمیٹی والوں کو جانتا ہوں۔ کئی مرتبہ ان کے ساتھ تعاون کیا بھی ہے اور اب بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔ یہ جس طرح کا تعاون چاہیں گے ہم فراہم کریں گے کیونکہ تعاون کے بغیر دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

اس سے قبل بھی پشاور سے متصل علاقوں میں حکومت کی حمایت یافتہ امن کمیٹیوں کے ارکان کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کے لیے حکومت کی جانب سے وعدوں کے مطابق امداد فراہم نہ کرنے پر تحفظات ظاہر کیے جاچکے ہیں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس