1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سے مذاکرات ہو رہے ہیں، افغان صدر کا اعتراف

افغان صدر حامد کزئی نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ عرصے سے وہ طالبان کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات کر رہے ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد ملک میں نو سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ طالبان سے ایسے بات کر رہے ہیں، جیسا کہ ایک ملک کا باشندہ اپنے ہم وطن سے بات کرتا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کے بقول طالبان کے ساتھ مذاکرات کا یہ سلسلہ نہ صرف غیر رسمی ہے بلکہ یہ بات چیت باقاعدگی سے بھی نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر سرکاری سطح پر ذاتی نوعیت کے رابطے ہوتے ہیں۔

Afghanistan Friedensgespräche

بائیں، برہان الدین ربانی، درمیان، افغان صدر حامد کرزئی اور بائیں پیر سید احمد گیلانی

ابھی حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ حامد کرزئی، افغان طالبان کے ساتھ اعلٰی سطحی خفیہ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان مذاکرات میں حامد کرزئی کی انتظامیہ بھی شامل ہے، جو پاکستانی طالبان کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

دریں اثناء حامد کرزئی نے اتوار کو سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کو ’امن کونسل‘ کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا ہے۔ افغان صدر کی طرف سے بنائی گئی اس امن کونسل کا کام طالبان کے ساتھ باقاعدہ مکالمت کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ جنگ سے تباہ حال ملک میں استحکام لایا جا سکے۔ حامد کرزئی کاکہنا ہےکہ اس امن کونسل کے قیام سے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں نہ صرف باقاعدگی آئے گی بلکہ یہ سرکاری طور پر کئے جائیں گے۔

68 ممبران پر مشتمل اس کونسل کا قیام ملکی سطح پر ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد وجود میں لایا گیا ہے۔ جون منعقدہ اس کانفرنس میں ایسی ہی ایک کونسل بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس کونسل کے چیئرمین برہان الدین ربانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن ممکن ہے۔ ربانی 1992ء تا 1996 ء میں افغانستان کے صدر تھے، تاہم خانہ جنگی کے اس دور میں وہ اپنے عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ امن کونسل میں انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ تاجک اور طالبان کے ساتھ ان کے روابط کافی پرانے ہیں اور وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے انہیں مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔

Burhanuddin Rabbani

سابق افغان صدر برہان الدین ربانی، فوٹو سن 1996ء

انسانی حقوق کےاداروں کا کہنا ہے کہ ربانی 1990ء میں جنگی جرائم میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغانستان اور سوویت یونین کی جنگ کے دوران سابق افغان صدر ربانی نے ایک عسکری تنظیم کی نمائندگی کرتے ہوئےخود بھی جنگ لڑی تھی۔

امن کونسل کے قیام پر حامد کرزئی نے اگرچہ خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن دوسری طرف افغان طالبان باغی بارہا کہہ چکے ہیں کہ جب تک افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء نہیں ہوتا ، وہ افغان حکومت کےساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM