1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سے مذاکرات کے لئے ربانی کی اسلام آباد آمد

طالبان باغیوں سے امن معاہدے کے سلسلے میں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی جلد پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ربانی کابل حکومت کے تشکیل دئے گئے امن جرگے کے سربراہ ہیں۔

default

یہ خیال عام ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے آس پاس قبائلی علاقے میں روپوش ہے۔ مغربی ممالک اور کابل حکام کی جانب سے بھی بارہا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور طالبان جنگجوؤں کے تعلقات کی باتیں کی جاتی ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد حکومت کے تعاون کے بغیر قیام امن ممکن نہیں۔

اسی تناظر میں اپنے مشرقی پڑوسی کا تعاون حاصل کرنے سابق صدر برہان الدین ربانی کی سربراہی میں ایک وفد متوقع طور پر اگلے ہفتے پاکستان آ رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے سے بات چیت میں سابق صدر کے ترجمان عطاء اللہ لودین نے بتایا کہ مذاکراتی سلسلے کے دوران تمام فریقین سے بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’یہ ایک جامع عمل کی ابتدا ہے، حتمی طور پر کسی متوقع نتیجے سے متعلق فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے البتہ قیام امن کی امیدیں روشن ہیں‘۔

Afghanistan Friedensgespräche

افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ برس طالبان سے امن مذاکرات کے لئے اعلیٰ سطح کے جرگے کے قیام کا اعلان کیا تھا

برہان الدین ربانی منگل کو پاکستان پہنچ کر صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملیں گے۔ 2011ء کے آغاز کے ساتھ ہی کابل حکومت قیام امن کی کوششوں میں مزید پھرتی کا مظاہرہ کرنے کی کوششوں میں ہے۔ 2014ء میں سلامتی کی مکمل ذمہ داری سونپنے سے قبل رواں سال ہی بعض علاقوں سے مغربی دفاعی اتحاد کے فوجی واپس چلے جائیں گے۔

مغربی سفارت کاروں اور عسکری حکام کی نظر میں طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوششیں محض اُس صورت میں ثمر آور ہیں، اگر ان میں چند بنیادی نکات پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اس کا بہت زیادہ انحصار پاکستانی انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بھی ہے۔

طالبان کے اعلیٰ ترین لیڈر ملا محمد عمر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے وفاداروں کے ساتھ پاکستانی صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں روپوش ہیں۔ افغان امور کے ماہر پروفیسر Gilles Dorronsoro کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں موجود طالبان سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر خود مختار ہیں، البتہ عملی طور پر وہ پاکستانی حکومت کے اختیار میں ہیں۔

مبصرین کے خیال میں پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت اور کابل کے مابین اعتماد کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ Dorronsoro کے مطابق طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں اسلام آباد حکومت کی جانب سے تعاون حاصل کرنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ واشنگٹن، افغانستان میں بھارت کو سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے نہ دے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM