1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، افغان صدارتی ترجمان

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس سال کی جانے والی چار ملکی گروپ کی کاوشوں کے ناکام رہنے کے بعد کابل حکومت کا طالبان کے ساتھ مذاکراتی کوششوں کی بحالی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

کابل سے جمعرات چودہ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان ہارون چاخان سوری نے آج کہا کہ افغانستان، پاکستان، چین اور امریکا پر مشتمل چار ملکی گروپ نے اس سال کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین امن مذاکرات کی بحالی کے لیے جو کوششیں کیں، ان کے ناکام رہنے کے بعد اب غنی انتظامیہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کی نمائندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دوبارہ کوئی کاوشیں کی جائیں۔

صدارتی ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ افغان طالبان کے ساتھ مکالمت کی بحالی سے متعلق مشاورت کے لیے مستقبل قریب میں اس چار ملکی گروپ کے کسی نئے اجلاس کا بھی نہ تو کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے۔

اس چار ملکی گروپ کے اسی سال جنوری سے اب تک پاکستان اور افغان دارالحکومت کابل میں پانچ اجلاس ہو چکے ہیں اور ان میں سے کسی ایک میں بھی طالبان کے نمائندے شامل نہیں تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ افغان طالبان بنیادی طور پر کابل حکومت کے ساتھ کسی بھی براہ راست امن بات چیت میں شرکت سے انکاری ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ صدر اشرف غنی کی یہ تازہ سوچ اس بات پر کابل حکومت کی ناامیدی کا پتہ دیتی ہے کہ، خود کابل انتظامیہ کے مطابق، ان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ہمسایہ ملک پاکستان کی طرف سے اب تک کی جانے والی کوششیں ’نیم دلانہ‘ تھیں۔

اس پس منظر میں افغان صدر غنی اسلام آباد پر یہ الزام بھی لگا چکے ہیں کہ پاکستان نے اپنے ہاں افغان طالبان کی قیادت کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کر رکھی ہیں۔ یہ افغانستان کا ایسا الزام ہے جس کی اسلام آباد کی طرف سے تردید کی جاتی ہے۔

Ashraf Ghani im Interview für DW

افغان صدر اشرف غنی اسلام آباد پر یہ الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان نے اپنے ہاں افغان طالبان کی قیادت کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کر رکھی ہیں

اس بارے میں صدارتی ترجمان ہارون سوری نے کہا، ’’افغانستان ابھی تک ان دہشت گرد گروپوں کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے، جو پاکستان سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں اور جن کے لیے پاکستان میں تائید و حمایت پائی جاتی ہے۔‘‘

اے پی نے مزید لکھا ہے کہ 2014ء میں صدر بننے والے اشرف غنی نے افغان عوام سے ملک میں قیام امن کا وعدہ کیا تھا اور انہوں نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان سے پرجوش رابطے بھی کیے تھے۔ لیکن کابل میں ہونے والے کئی بڑے خود کش بم حملوں کے بعد اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بند کر دیا تھا اور ساتھ ہی اسلام آباد سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ افغان طالبان اور ان کے قریبی اتحادی حقانی نیٹ ورک کی تائید و حمایت بند کرے۔