1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سے مذاکرات ضروری، برطانوی پارلیمانی کمیٹی

برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان کے ساتھ براہ راست امریکی مذاکرات ضروری ہیں۔ دریں اثناء افغانستان و پاکستان کے لیے خصوصی امریکی مندوب مارک گروس مین نے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

default

فائل فوٹو: ملا محمد عمر

برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے بدھ کے روز اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان کے ساتھ براہ راست امریکی مذاکرات ضروری ہیں۔ کمیٹی نے برطانوی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی مہم کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں، لہذا وہ طالبان لیڈروں سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے واشنگٹن حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کی باعزت واپسی کے

Hamid Karzai mit US Flagge und Afghanistan Flagge

حامد کرزئی نے منگل کے روز افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی مندوب سے ملاقات کی ہے

لیے ضروری ہے کہ افغان قیادت کے تحت سیاسی مصالحت کےعمل شروع کیا جائے۔ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کی گئی یہ رپورٹ مختلف سیاسی ماہرین اور حکام سے انٹرویو کرنے کے بعد مرتب کی گئی ہے۔

برطانیہ اور امریکہ پہلے بھی افغانستان میں سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتے آئے ہیں۔ رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجی دباؤ کے تحت عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد ملی ہے۔

کئی ممالک کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات خفیہ طور پر پہلے ہی سے جاری ہیں تاہم اب ان کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ کھلے عام مذاکرات اس وقت تک نہیں کیے جا سکتے، جب تک غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل نہیں جاتیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے منگل کے روز افغانستان اور پاکستان کے خصوصی امریکی مندوب مارک گروس مین سے ملاقات کی ہے۔ امریکی مندوب کا افغان صدر کے ساتھ مشترکہ کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا،’ ابھی وقت ہے کہ طالبان نیا سفر شروع کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے یہ ایک فیصلہ کن سال ہے۔‘

رواں ہفتے سعودی عرب میں اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے ایک اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں افغان امن کونسل کے قائدین کے ساتھ ساتھ 40 سے زائد ممالک کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں مفاہمتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM