1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سے علیحدہ ہونے والے اہم کمانڈر کی ’ہلاکت‘

افغان طالبان سے علیحدہ ہو کر ایک تنظیم کا حصہ بننے والا ایک اہم رہنما عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا ہے۔ افغان پولیس کے مطابق عسکریت پسندوں کے دو گروپوں کے درمیان یہ جھڑپ جنوب مشرقی افغانستان میں ہوئیں۔

جمعرات کے روز سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملا منصور داداللہ نامی یہ اہم عسکریت پسند کمانڈر زابل صوبے کے خاکِ افغان نامی ضلع میں طالبان کے نرغے میں آ گیا تھا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق داداللہ نے افغان طالبان کی مرکزی تنظیم چھوڑ کر ایک اور عسکریت پسند گروپ میں بطور نائب سربراہ شمولیت اختیار کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ بدھ کے شب طالبان کے مرکزی دھڑے کے عسکریت پسندوں نے اسے خاکِ افغان ضلع میں گھیر لیا، جس کے بعد عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔

زابل صوبے کے نائب پولیس سربراہ غلام جیلانی فراحی نے بتایا کہ اسی جھڑپ میں داداللہ مارا گیا۔ فراحی کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جب کہ طالبان سے ملا محمد رسول کی قیادت میں الگ ہونے والے گروپ نے بھی اس اطلاع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان کی باہمی لڑائیوں کی خبروں تک رسائی ایک نہایت مشکل کام ہے اور اسی لیے اس بابت خبریں ابہام ہی کا شکار رہتی ہیں۔

دوسری جانب زابل میں طالبان کے ایک کمانڈر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ داداللہ اپنے ہی ایک محافظ کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کمانڈر کا کہنا تھا کہ داداللہ کا محافظ طالبان کے سربراہ ملا منصور کے جاسوس کے طور پر کام کر رہا تھا۔

نام ظاہر کیے بغیر اس طالبان کمانڈر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’جب دیگر محافظ چوکنے نہیں تھے، منصور کے آدمی نے داد اللہ پر فائرنگ کر دی اور اسے ہلاک کر دیا۔‘

یہ بات اہم ہے کہ ملا محمد رسول کا عسکریت پسند دھڑا طالبان رہنما ملا محمد عمر کے انتقال کے بعد ملا منصور کو قیادت سونپے جانے پر احتجاج کے طور پر طالبان سے الگ ہو گیا تھا۔ ابھی یکم نومبر کو اس دھڑے نے ملا محمد رسول کو اپنا سربراہ مقرر کیا تھا، تاہم فی الحال یہ معلوم نہیں کہ کتنے طالبان کمانڈر ملا محمد رسول کے دھڑے میں شامل ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس دھڑے کے ارکان خصوصاﹰ داداللہ اس دھڑے کو افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کے اتحادی عسکریت پسندوں کے قریب لانے کی کوشش میں تھے۔